بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مزابنہ اور محاقلہ کا بیان
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) خرید و فروخت کے مسائل مزابنہ اور محاقلہ کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 493 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
158- وبه: عن أبى سفيان عن أبى سعيد الخدري: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم نهى عن المزابنة والمحاقلة. والمزابنة: اشتراء الثمر بالتمر فى رؤوس النخل، والمحاقلة: كراء الأرض بالحنطة.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (دو سَودوں) مزابنہ اور محقلہ سے منع فرمایا ہے۔ مزابنہ یہ ہے کہ درختوں پر تازہ کھجوروں کو چھوہاروں کے بدلے خریدا جائے اور محاقلہ (مقرر) گندم کے بدلے میں زمیں کو کرائے پر دینے کو کہتے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 493]
تخریج الحدیث
«158- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 625/2 ح 1355، ك 31 ب 13 ح 24) التمهيد 313/2، الاستذكار:1275، و أخرجه البخاري (2186) ومسلم (1546/105) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 494 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
236- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم نهى عن المزابنة، والمزابنة: بيع الثمر بالتمر كيلا، وبيع الكرم بالزبيب كيلا.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزابنہ سے منع کیا ہے (اور مزابنہ یہ ہے کہ) درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے بدلے تول کا سودا کیا جائے اور درخت پر لگے ہوئے انگوروں کو خشک انگوروں کے بدلے تول کا سودا کیا جائے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 494]
تخریج الحدیث
«236- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 624/2 ح 1354، ك 31 ب 13 ح 23) التمهيد 307/13، الاستذكار:1274، و أخرجه البخاري (2171) ومسلم (1542/72) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح