بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تین دن سے زیادہ ناراضی جائز نہیں ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) اخلاق و آداب سے متعلق مسائل تین دن سے زیادہ ناراضی جائز نہیں ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 468 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
4- وبه قال: قال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”لا تباغضوا ولا تحاسدوا، ولا تدابروا، وكونوا عباد الله إخوانا، ولا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو اور آپس میں حسد نہ کرو اور ایک دوسرے کی طرف (ناراضی سے) پیٹھ نہ پھیرو اور اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ، کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ بائیکاٹ کرے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 468]
تخریج الحدیث
«4- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييي 907/2 ح 748 ك 47 ب 4 ح 14) التمهيد 115/6، الاستذكار: 1680، أخرجه البخاري (6076) ومسلم (2559) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 469 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
79- وبه: عن عطاء بن يزيد الليثي عن أبى أيوب الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال، يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا، وخيرهما الذى يبدأ بالسلام.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوایوب الانصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ وہ تین راتوں سے زیادہ اپنے بھائی سے بائیکاٹ کرے (ایسا نہ ہو کہ) جب ان کی ملاقات ہو تو ایک بھائی دوسرے سے منہ پھیر لے اور دوسرا اس سے منہ پھیر لے۔ ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو دوسرے کو پہلے سلام کرے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 469]
تخریج الحدیث
«79- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 906/2، 907 ح 1747، ك 47 ب 4 ح 13) التمهيد 145/10، الاستذكار: 1679، و أخرجه البخاري (6077) ومسلم (2560) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح