بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
پڑوسی کے حقوق
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) اخلاق و آداب سے متعلق مسائل پڑوسی کے حقوق
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 463 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
82- وبه: عن الأعرج عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”لا يمنع أحدكم جاره أن يغرز خشبة فى جداره.“ قال: ثم يقول أبو هريرة: مالي أراكم عنها معرضين، والله لأرمين بها بين أكتافكم.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی بھی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار پر لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے۔   (عبدالرحمٰن بن ہرمز الاعرج نے) کہا: پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: کیا وجہ ہے کہ میں تمہیں اس سے منہ پھیرے ہوئے دیکھتا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان ضرور پھینکوں گا یعنی میں اسے تمہارے درمیان مشہور کروں گا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 463]
تخریج الحدیث
«82- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 745/2 ح 1501، ك 36 ب 26 ح 32) التمهيد 215/10، الاستذكار: 1425، و أخرجه البخاري (2463) ومسلم (1609/136) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 464 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
180- مالك عن زيد بن أسلم عن عمرو بن معاذ الأشهلي عن جدته أنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”يا نساء المؤمنات، لا تحقرن إحداكن لجارتها ولو كراع شاة محرقا.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
عمرو بن (سعد بن) معاذ الاشہلی کی دادی (حواء رضی اللہ عنہا) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ایمان والی عورتو! اپنی پڑوسن کے ساتھ نیکی میں کسی چیز کو بھی حقیر نہ سمجھو اگرچہ بکری کا جلا ہوا کھر ہی کیوں نہ ہو۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 464]
تخریج الحدیث
«180- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 931/2 ح 795، ك 49 ب 10 ح 45) التمهيد 295/4، الاستذكار:1728، و أخرجه أحمد (64/4، 377/5، 434/6) والدارمي (1679) والبخاري فى الأدب المفرد (122) من حديث مالك به وللحديث شواهد عند البخاري (2566) ومسلم (1030) وغيرهما هوهو بها صحيح والحمدللٰه .»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح