بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جس لباس سے بے حیائی واضح ہو اس کی ممانعت
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) لباس سے متعلق مسائل جس لباس سے بے حیائی واضح ہو اس کی ممانعت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 425 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
357- وبه: أنه قال: نهى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم عن لبستين وعن بيعتين: عن الملامسة والمنابذة، وعن أن يحتبي الرجل فى ثوب واحد ليس على فرجه منه شيء، وعن أن يشتمل الرجل بالثوب الواحد على أحد شقيه.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو پہناووں اور دو سودوں سے منع فرمایا ہے: دو سودے تو ملامسہ اور منابذہ ہیں اور (دو پہناووں سے مراد یہ ہے کہ) کوئی آدمی ایک کپڑے میں گھٹنے کھڑے کر کے اس طرح بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ پر کوئی کپڑا نہ ہو اور کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح اشتمال کرے کہ اس کا ایک کندھا ننگا ہو۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 425]
تخریج الحدیث
«357- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 917/2 ح 1769، ك 48 ب 8 ح 17) التمهيد 34/18، الاستذكار: 1701، وأخرجه البخاري (5821) من حديث مالك به، ورواه مسلم (1511) من حديث ابي الزناد به مختصرا جدا.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 426 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
104- مالك عن أبى الزبير عن جابر بن عبد الله السلمي أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم نهى أن يأكل الرجل بشماله، أو يمشي فى نعل واحدة، أو أن يشتمل الصماء، أو أن يحتبي فى ثوب واحد كاشفا عن فرجه.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا جابر بن عبداللہ السلمی (الانصاری رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی بائیں ہاتھ سے کھائے یا ایک جوتی میں چلے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشتمال صماء (سر سے پاوں تک ایک کپڑا لپیٹنے) سے یا ایک کپڑے سے گوٹھ مارنا جس سے شرمگاہ ننگی رہے منع فرمایا ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 426]
تخریج الحدیث
«104- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 922/2 ح 776، ك 49 ب 4 ح 5) التمهيد 165/12، الاستذكار: 1708، و أخرجه مسلم (2099/70) من حديث مالك ورواه (2099/72) من حديث الليث بن سعد عن ابي الزبير به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح