بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
گورخر حلال جانور ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) کھانے اور مشروبات سے متعلق مسائل گورخر حلال جانور ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 406 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
173- وبه: عن عطاء بن يسار حدثه عن أبى قتادة فى الحمار الوحشي مثل حديث أبى النضر، إلا أن حديث زيد بن أسلم أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”هل معكم من لحمه شيء؟.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ عطاء بن یسار سے روایت ہے، انہوں نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے وحشی گدھے (گورخر) کے بارے میں ابوالنضر جیسی حدیث بیان کی سوائے اس کے کہ زید بن اسلم کی (روایت کردہ) حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اس کے گوشت میں سے کوئی چیز ہے؟ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 406]
تخریج الحدیث
«173- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 351/1 ح 796، ك 20 ب 24 ح 78) التمهيد 126/4، الاستذكار:745، و أخرجه البخاري (5491) ومسلم (1196/58) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح