بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سوسمار (ضب) حلال ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) کھانے اور مشروبات سے متعلق مسائل سوسمار (ضب) حلال ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 404 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
70- مالك عن ابن شهاب عن أبى أمامة بن سهل بن حنيف عن عبد الله بن عباس عن خالد بن الوليد بن المغيرة المخزومي: أنه دخل مع رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بيت ميمونة، قال: فأتي بضب محنوذ فأهوى إليه رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بيده، فقال بعض النسوة اللاتي فى بيت ميمونة: أخبروا رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بما يريد أن يأكل منه. فقيل: هو ضب يا رسول الله. فرفع رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يده، قال: فقلت: أحرام هو يا رسول الله؟ قال: فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”لا، ولكنه لم يكن بأرض قومي فأجدني أعافه.“ قال خالد: فاجتررته فأكلته ورسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ينظر.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا خالد بن ولید بن مغیرہ المخرومی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اپنی خالہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہوئے تو بھنا ہو ایک سو سمار (سمسار، ضب) آپ کے پاس لایا گیا تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھانے کے لیے اس کی طرف اپنا  ہاتھ بڑھایا سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں بعض عورتوں میں سے کسی نے کہا: رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جسے کھانا چاہتے ہیں اس کے بارے میں آپ کو بتا دو کہا گیا: یا رسول اﷲ! یہ سمسار (ضب) ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا۔ میں نے کہا: یا رسو ل اﷲ! کیا یہ حرام ہے؟ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں لیکن یہ ہماری قوم کے علاقے میں نہیں ہوتی، پس اس لیے میری طبیعت اس سے انکار کرتی ہے۔سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اسے اپنی طرف کھینچا، پھر کھا لیا اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری طرف دیکھ رہے تھے۔  ​ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 404]
تخریج الحدیث
«70- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 968/2 ح 1871، ك 54 ب 4 ح 10) التمهيد 247/6، الاستذكار: 1807، و أخرجه البخاري (5537) من حديث مالك به ورواه مسلم (1944/44) من حديث الزهري به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 405 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
297- وبه: أن رجلا نادى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فقال: يا رسول الله، ما ترى فى الضب؟ فقال: ”لست بآكله ولا محرمه.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آواز دی اور کہا: یا رسول اللہ! آپ کا ضب (سمسار) کے بارے میں کیا خیال ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہ میں اسے کھاتا ہوں اور نہ اسے حرام قرار دیتا ہوں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 405]
تخریج الحدیث
«297- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 968/2 ح 1872، ك 54 ب 4 ح 11) التمهيد 63/17، الاستذكار: 1808، و أخرجه الترمذي (1790 وقال: ”هذا حديث حسن صحيح“) و النسائي (197/7 ح 4320) من حديث مالك به ورواه البخاري (5536) ومسلم (1943) من حديث عبداللٰه بن دينار به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح