بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
شراب پینا اور بیچنا حرام ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) کھانے اور مشروبات سے متعلق مسائل شراب پینا اور بیچنا حرام ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 393 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
183- وبه: أنه سأل ابن عباس عما يعصر من العنب، فقال عبد الله بن عباس: أهدى رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم راوية خمر، فقال له النبى صلى الله عليه و آله وسلم: ”أما علمت أن الله حرمها؟“ فقال: لا. فسار إنسانا إلى جانبه، فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”بم ساررته؟“ فقال: أمرته أن يبيعها. فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”إن الذى حرم شربها حرم بيعها.“ ففتح المزادتين حتى ذهب ما فيهما.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (ابن وعلہ المصری سے) روایت ہے کہ انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے انگور کے شربت کے بارے میں پوچھا: تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں شراب سے لدا ہوا جانور بطور تحفہ پیش کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تجھے پتا نہیں کہ اللہ نے اسے حرام کر دیا ہے؟ اس نے جواب دیا: نہیں، پھر اس آدمی نے اپنے قریب والے کسی شخص سے سرگوشی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: تم نے اس سے کیا خفیہ بات کی ہے؟ اس نے کہا: میں نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ اسے (شراب کو) بیچ دے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اس کا پینا حرام کیا ہے اس نے اس کا بیچنا (بھی) حرام کیا ہے۔ پھر اس آدمی نے دونوں مشکیزے کھول دیئے حتی ٰ کہ ان میں سے ساری شراب بہہ گئی۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 393]
تخریج الحدیث
«183- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 846/2 ح 1643، ك 42 ب 5 ح 12) التمهيد 140/4، الاستذكار:1571، و أخرجه مسلم (1579) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح