بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ہر قسم کی شراب حرام ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) کھانے اور مشروبات سے متعلق مسائل ہر قسم کی شراب حرام ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 391 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
118- وبه أنه قال: كنت أسقي أبا عبيدة بن الجراح وأبا طلحة الأنصاري وأبي بن كعب شرابا من فضيخ تمر، فجاءهم آت فقال لهم: إن الخمر قد حرمت. فقال أبو طلحة: يا أنس، قم إلى هذه الجرار فاكسرها. قال: فقمت إلى مهراس لنا فضربتها بأسفلها حتى تكسرت.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: میں (شراب کی حرمت سے پہلے) ابوعبیدہ بن الجراح، ابوطلحہ انصاری اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو کھجور اور چھوہاروں کی شراب پلا رہا تھا کہ ایک شخص نے آ کر انہیں بتایا: بےشک شراب حرام ہو گئی ہے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے انس! اٹھ اور ان مٹکوں کو توڑ دے، پھر میں نے ایک پتھر (موسل) لے کر ان مٹکوں کو مارا حتیٰ کہ وہ ٹکڑے ٹکڑ ے ہو گئے ۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 391]
تخریج الحدیث
«118- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 446/2، 447 ح 1644، ك 42 ب 5 ح 13) التمهيد 242/1، الاستذكار: 1572، و أخرجه البخاري (5582) ومسلم (1980/9 بعد ح 1981) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 392 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
20- مالك عن ابن شهاب عن أبى سلمة بن عبد الرحمن عن عائشة زوج النبى صلى الله عليه و آله وسلم أنها قالت: سئل رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم عن البتع فقال: ”كل شراب أسكر حرام.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تبع (شہد کی شراب) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر وہ مشروب جو نشہ دے حرام ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 392]
تخریج الحدیث
«20- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 845/2 ح 1640، ك 42 ب 4 ح 9) التمهيد 124/7، الاستذكار: 1569، و أخرجه البخاري (5585) ومسلم (2001) من حديث مالك به، من رواية يحيي.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح