بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
انبیاء علیہ السلام کی وراثت کا مسئلہ
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) وراثت کے مسائل انبیاء علیہ السلام کی وراثت کا مسئلہ
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 386 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
44- وبه: أنها قالت: إن أزواج النبى صلى الله عليه و آله وسلم حين توفي رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أردن أن يبعثن عثمان بن عفان إلى أبى بكر الصديق فيسألنه ميراثهن من رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم، فقالت لهن عائشة: أليس قد قال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ”لا نورث، ما تركنا فهو صدقة.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے) روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فوت ہوئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیویوں نے یہ ارادہ کیا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وراثت میں سے اپنا حصہ مانگیں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ا ن سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ ہماری وراثت نہیں ہوتی، ہم جو چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہے؟ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 386]
تخریج الحدیث
«44- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 993/2 ح 1935، ك 56 ب 12 ح 27) التمهيد 150/8، الاستذكار: 1877، و أخرجه البخاري (6730) ومسلم (1758/51) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 387 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
372- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”لا يقسم ورثتي دينارا، ما تركت بعد نفقة نسائي ومؤنة عاملي فهو صدقة.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے ورثاء ایک دینار بھی تقسیم میں نہیں لیں گے۔ میری بیویوں کے نان نفقے اور میرے عامل کے خرچ کے بعد میں نے جو بھی چھوڑا ہے سب صدقہ ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 387]
تخریج الحدیث
«372- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 993/2، ح 1936، ك 56 ب 12 ح 28) التمهيد 171/18، الاستذكار: 1873، و أخرجه البخاري (3096) و مسلم (1760) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح