بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
دعوت ولیمہ قبول کرنا ضروری ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) ولیمے کا بیان دعوت ولیمہ قبول کرنا ضروری ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 363 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
83- وبه: عن أبى هريرة أنه كان يقول: شر الطعام طعام الوليمة يدعى لها الأغنياء ويترك المساكين. ومن لم يأت الدعوة فقد عصى الله ورسوله.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ (لوگوں کا) سب سے برا کھانا اس ولیمے کا کھانا ہے جس میں امیروں کو دعوت دی جاتی ہے اور مسکینوں کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور جس نے (بغیر شرعی عذر کے) دعوت قبول نہ کی تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 363]
تخریج الحدیث
«83- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 546/2 ح 1187، ك 28 ب 21 ح 50) التمهيد 175/10، الاستذكار: 1107، و أخرجه البخاري (5177) ومسلم (1432/107) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
حدیث نمبر: 364 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
231- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”إذا دعي أحدكم إلى الوليمة فليأتها.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو ولیمے کی دعوت ملے تو اسے چاہئیے کہ وہ اسے قبول کرے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 364]
تخریج الحدیث
«231- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 456/2 ح 1186، ك 28 ب 21 ح 49) التمهيد 14/14، الاستذكار:1106، و أخرجه البخاري (5173) ومسلم (1429/96) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح