بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
عرفات کے دن حاجی کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) حج کے مسائل عرفات کے دن حاجی کو روزہ نہیں رکھنا چاہئے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 325 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
425- وعن أبى النضر عن عمير مولى ابن عباس عن أم الفضل بنت الحارث: أن ناسا تماروا عندها يوم عرفة فى صيام رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم، فقال بعضهم: هو صائم، وقال بعضهم ليس بصائم. فأرسلت إليه أم الفضل بقدح لبن وهو واقف على بعيره بعرفة فشربه.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدہ ام الفضل بنت الحارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عرفات کے دن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا۔ بعض نے کہا: آپ روزے سے ہیں اور بعض نے کہا: آپ روزے سے نہیں ہیں۔ پھر ام الفضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں دودھ کا ایک پیالہ بھیجا اور آپ عرفات میں اونٹ پر کھڑے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے نوش فرما لیا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 325]
تخریج الحدیث
«425- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 375/1 ح 852، ك 20 ب 43 ح 132) التمهيد 157/21، الاستذكار: 800، و أخرجه البخاري (1661) ومسلم (1123) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح