بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حالت احرام میں شکار کی ممانعت
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) حج کے مسائل حالت احرام میں شکار کی ممانعت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 310 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
53- وبه: عن ابن عباس عن الصعب بن جثامة الليثي أنه أهدى لرسول الله صلى الله عليه و آله وسلم حمارا وحشيا وهو بالأبواء أو بودان، فرده عليه رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم. قال: فلما رأى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ما فى وجهي قال: ”إنا لم نرده عليك إلا أنا حرم.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابن عبا س رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ سیدنا صعب بن جثامہ اللیثی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ابواء یا ودان ایک مقام کے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں گورخر ایک حلال جانور کے گوشت کا تحفہ پیش کیا جسے انہوں نے شکار کیا تھا، تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے رد کر دیا۔ (صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے چہرے کی حالت دیکھی تو فرمایا: ہم نے اسے اس لئے قبول نہیں کیا کہ ہم حالت احرام میں ہیں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 310]
تخریج الحدیث
«53- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 353/1 ح 801، ك 20 ب 25 ح 83) التمهيد 54/9، الاستذكار: 751، و أخرجه البخاري (1825) ومسلم (1193) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح