بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سواری پر طواف کرنا جائز ہے
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) حج کے مسائل سواری پر طواف کرنا جائز ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 302 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
91- وبه: عن عروة بن الزبير عن زينب بنت أبى سلمة عن أم سلمة زوج النبى صلى الله عليه و آله وسلم أنها قالت: شكوت إلى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أني أشتكي فقال: ”طوفي من وراء الناس وأنت راكبة.“ قالت: فطفت ورسول الله صلى الله عليه و آله وسلم حينئذ يصلي إلى جنب البيت وهو يقرأ بـ (الطور) .
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس شکایت کی کہ میں بیمار ہوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں سے پیچھے ہٹ کر سواری کی حالت میں ہی طواف کرو۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے آپ سورہ طور  «وَالطُّورِ ﴿١﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ»  اور قسم ہے طور کی اور لکھی ہوئی کتاب کی، پڑھ رہے تھے ۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 302]
تخریج الحدیث
«91- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 370/1، 371 ح 843، ك 20 ب 40 ح 123) التمهيد 99/13، الاستذكار: 791، و أخرجه البخاري (464) و أخرجه مسلم (1276) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح