496- وبه: أن عائشة قالت: لو أدرك رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ما أحدث النساء، لمنعهن المسجد كما منعه نساء بني إسرائيل. قال يحيى: فقلت لعمرة: أو منع نساء بني إسرائيل المسجد؟ قال: فقالت عمرة: نعم.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ عورتوں نے آج کل جو باتیں نکال لی ہیں، اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیکھتے تو انہیں مسجد (جانے) سے روک دیتے جس طرح کہ بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا۔ یحییٰ (بن سعید الانصاری، راوی) نے عمرہ (بنت عبدالرحمٰن رحمہما اللہ) سے پوچھا: کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں!۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 194]
تخریج الحدیث
«496- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 198/1 ح 469، ك 14 ب 6 ح 15) التمهيد 394/23، الاستذكار: 438، و أخرجه البخاري (869) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح