205- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم رأى بصاقا فى جدار القبلة فحكه: ثم أقبل على الناس فقال: ”إذا كان أحدكم يصلي فلا يبصق قبل وجهه فإن الله قبل وجهه إذا صلى.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبلے کی طرف دیوار پر تھوک دیکھا تو اسے کھرچ (کر صاف کر) دیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو اپنے سامنے نہ تھوکے کیونکہ جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اس کے سامنے اللہ ہوتا ہے۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 193]
تخریج الحدیث
«205- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 194/1 ح 458، ك 14 ب 3 ح 4) التمهيد 154/14، الاستذكار:427، و أخرجه البخاري (406) ومسلم (547) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح