بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
نماز خوف کا طریقہ
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) خوف و سفر کی نماز کا بیان نماز خوف کا طریقہ
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 179 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
514- مالك عن يزيد بن رومان عن صالح بن خوات عمن صلى مع رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يوم ذات الرقاع صلاة الخوف أن طائفة صفت معه وطائفة وجاه العدو، فصلى بالذين معه ركعة، ثم ثبت قائما وأتموا لأنفسهم، ثم انصرفوا وصفوا وجاه العدو، وجاءت الطائفة الأخرى فصلى بهم الركعة التى بقيت من صلاته، ثم ثبت جالسا وأتموا لأنفسهم، ثم سلم بهم.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اس صحابی سے روایت ہے جنہوں نے غزوہ ذات الرقاع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی تھی۔ ایک گروہ نے آپ کے ساتھ صف بنا لی اور دوسرا گروہ دشمن کے مقابلے میں موجود رہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھ نماز پڑھنے والوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے رہے اور انہوں نے خود دوسری رکعت پڑھ لی پھر (سلام پھیر کر) چلے گئے اور دشمن کے مقابلے میں صف بنا لی۔ دوسرے گروہ نے آ کر آپ کے ساتھ ایک رکعت پڑھی جو کہ آپ کی نماز میں سے باقی رہ گئی تھی پھر آپ بیٹھے رہے اور انہوں نے اپنی نماز پوری کی پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیر دیا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 179]
تخریج الحدیث
«514- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 183/1 ح 441، ك 11 ب 1 ح 1) التمهيد 31/23، الاستذكار: 410، و أخرجه البخاري (4129) ومسلم (842) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح