بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سواری پر نماز پڑھنا
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) خوف و سفر کی نماز کا بیان سواری پر نماز پڑھنا
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 176 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
400- مالك عن عمرو بن يحيى المازني عن أبى الحباب سعيد بن يسار عن ابن عمر أنه قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يصلي وهو على حمار وهو موجه إلى خيبر.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک گدھے پر بیٹھے خیبر کی طرف رخ کئے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 176]
تخریج الحدیث
«400- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 150/1، 151 ح 352، ك 9 ب 7 ح 25) التمهيد 131/20، الاستذكار: 323، و أخرجه مسلم (700/35، دارالسلام: 1614) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 177 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
522- مالك عن أبى بكر بن عمر بن عبد الرحمن بن عبد الله بن عمر بن الخطاب رضى الله عنه عن سعيد بن يسار أنه قال: كنت أسير مع عبد الله بن عمر بطريق مكة، قال سعيد: فلما خشيت الصبح نزلت فأوترت ثم أدركته، فقال لي عبد الله بن عمر: أين كنت؟ فقلت: خشيت الفجر فنزلت فأوترت، فقال: أليس لك فى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أسوة حسنة؟ فقلت: بلى والله؛ قال: فإن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم كان يوتر على البعير.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سعید بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ مکے کے راستے میں سفر کر رہا تھا، پھر جب مجھے صبح کا ڈر ہوا تو میں نے (سواری سے) اتر کر وتر پڑھا اور انہیں جا ملا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں تھے؟ میں نے کہا: مجھے صبح کا ڈر ہوا تو میں نے اتر کر وتر پڑھ لیا۔ انہوں نے فرمایا: کیا تمہارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کی زندگی) میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اللہ کی قسم! ضرور ہے۔ انہوں نے فرمایا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونٹ پر وتر پڑھ لیتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 177]
تخریج الحدیث
«522- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 124/1 ح 268، ك 7 ب 3 ح 15) التمهيد 137/24، الاستذكار: 239، و أخرجه البخاري (999) و مسلم (700/36) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح