بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) نوافل و سنن کا بیان رات کی نماز دو دو رکعتیں ہیں
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 162 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
193- مالك عن مخرمة بن سليمان عن كريب مولى عبد الله بن عباس أن عبد الله بن عباس أخبره أنه بات عند ميمونة زوج النبى صلى الله عليه و آله وسلم وهى خالته، قال: فاضطجعت فى عرض الوسادة واضطجع رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم، وأهله فى طولها، فنام رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم حتى إذا انتصف الليل أو قبله بقليل أو بعده بقليل استيقظ رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فجلس يمسح النوم عن وجهه بيديه ثم قرأ العشر الآيات الخواتم من سورة آل عمران ثم قام إلى شن معلقة فتوضأ منها فأحسن وضوءه ثم قام يصلي. قال عبد الله بن عباس: فقمت فصنعت مثل ما صنع ثم ذهبت فقمت إلى جنبه، فوضع رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يده اليمنى على رأسي وأخذ بأذني اليمنى يفتلها، فصلى ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم ركعتين ثم أوتر، ثم اضطجع حتى جاءه المؤذن، فقام فصلى ركعتين خفيفتين، ثم خرج فصلى الصبح.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ایک رات رہے جو کہ ان کی خالہ تھیں، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں سرہانے کی چوڑائی میں لیٹ گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے گھر والے اس کی لمبائی میں لیٹ گئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سو گئے، حتیٰ کہ آدھی رات یا اس سے کچھ پہلے یا کچھ بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر پھیر کر نیند (کے اثرات) دور کرنے لگے، پھر آپ نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں، پھر ایک لٹکی ہوئی مشک کے پاس گئے تو اس (کے پانی) سے بہترین وضو کیا، پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: پھر میں نے کھڑے ہو کر اسی طرح کیا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا، پھر میں آپ کے پاس کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرا دایاں کان (پیار سے) پکڑ کر مروڑنے لگے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں (کل بارہ رکعتیں ہوئی) پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ایک) وتر پڑھا، پھر آپ لیٹ گئے حتی کہ جب مؤذن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے ہو کر ہلکی دو رکعتیں پڑھیں۔ پھر باہر تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 162]
تخریج الحدیث
«193- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 121/1، 122 ح 264، ك 7 ب 2 ح 11) التمهيد 206/13، الاستذكار:235، وأخرجه البخاري (183) ومسلم (763/182) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 163 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
202- مالك عن نافع وعبد الله بن دينار عن عبد الله بن عمر: أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم عن صلاة الليل، فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”صلاة الليل مثنى مثنى، فإذا خشي أحدكم الصبح صلى ركعة واحدة توتر له ما قد صلى.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آ دمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں پوچھا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب تم میں سے کسی کو صبح ہو جانے کا ڈر ہو تو وہ ایک رکعت پڑھ لے، اس نے جو نماز پڑھی ہے یہ اسے وتر بنا دے گی ۔ ​ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 163]
تخریج الحدیث
«202- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 123/1 ح 266، ك 7 ب 3 ح 13) التمهيد 240/13، الاستذكار:237، و أخرجه البخاري (990) ومسلم (749) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 164 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
312- مالك عن عبد الله بن أبى بكر عن أبيه أن عبد الله بن قيس بن مخرمة أخبره عن زيد بن خالد الجهني أنه قال: لأرمقن صلاة رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم الليلة. قال: فتوسدت عتبته أو فسطاطه، فصلى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ركعتين خفيفتين ثم صلى ركعتين طويلتين طويلتين طويلتين، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم صلى ركعتين وهما دون اللتين قبلهما، ثم أوتر، فذلك ثلاث عشرة ركعة.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں آج رات ضرور دیکھوں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیسی نماز پڑھتے ہیں؟ لہٰذا میں آپ کی چوکھٹ یا خیمے کے پاس لیٹ گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو ہلکی رکعتیں پڑھیں، پھر دو لمبی لمبی رکعتیں پڑھیں، پھر ان کے بعد دو رکعتیں پڑھیں جو کہ پہلی دو رکعتیں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو کہ پہلی دو رکعتوں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور وہ پہلی دو رکعتوں سے کم تھیں، پھر دو رکعتیں پڑھیں جو پہلی دو رکعتوں سے کم تھیں، پھر وتر پڑھا تو یہ (کل) تیرہ رکعتیں تھیں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 164]
تخریج الحدیث
«312- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 122/1 ح 265، ك 7 ب 2 ح 12) التمهيد 287/17، الاستذكار: 336، و أخرجه مسلم (765) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح