49- وبه: عن ابن عباس أنه قال: إن أم الفضل ابنة الحارث سمعته وهو يقرأ {والمرسلات عرفا} فقالت: يا بني، لقد ذكرتني بقراءتك هذه السورة إنها لآخر ما سمعت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يقرأ بها فى المغرب.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اسی سند کے ساتھ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ (ان کی والدہ) ام الفضل (لبابہ) بنت الحارث (رضی اللہ عنہما) نے انہیں (نماز میں سورة المرسلات) «وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا» پڑھتے ہوئے سنا تو فرمایا: اے میرے بیٹے! تم نے اس قرأت کے ساتھ مجھے یاد دلا دیا ہے کہ یہ وہ سورت ہے جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے آخر میں سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز مغرب میں اس کی قرأت کر رہے تھے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 139]
تخریج الحدیث
«49- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 78/1 ح 169، ك 3 ب 5 ح 24) التمهيد 22/9، الاستذكار: 148 مختصرا، و أخرجه البخاري (763) ومسلم (462) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح