بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) طریقہ نماز کا بیان تشہد میں بیٹھنے کی کیفیت
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 124 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
194- مالك عن مسلم بن أبى مريم عن على بن عبد الرحمن المعاوي أنه قال: رآني عبد الله بن عمر وأنا أعبث بالحصباء، فلما انصرفت نهاني وقال: اصنع كما كان رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يصنع، قال: فقلت: وكيف كان رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يصنع؟ قال: كان إذا جلس فى الصلاة وضع كفه اليمنى على فخذه اليمنى، وقبض أصابعه كلها وأشار بإصبعه التى تلي الإبهام، ووضع كفه اليسرى على فخذه اليسرى.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
علی بن عبدالرحمٰن المعادی (تابعی) سے روایت ہے کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے (نماز میں) دیکھا اور میں کنکریوں سے فضول کھیل رہا تھا، پھر جب میں نے سلام پھیرا تو انہوں نے مجھے منع کیا اور فرمایا: اسی طرح کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کرتے تھے، میں نے پوچھا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم  (اس حالت میں) کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز میں بیٹھتے تو دائیں ہتھیلی کو دائیں ران پر رکھتے اور اپنی ساری انگلیاں بند کر کے انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی (سبابہ) سے اشارہ کرتے اور بائیں ہتھیلی کو بائیں ران پر رکھتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 124]
تخریج الحدیث
«194- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 88/1، 89 ح 195، ك 3 ب 12 ح 48) التمهيد 193/13، الاستذكار:170، و أخرجه مسلم (580/16) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 125 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
383- مالك عن عبد الرحمن بن القاسم بن محمد بن أبى بكر الصديق عن عبد الله بن عبد الله بن عمر بن الخطاب أنه أخبره أنه كان يرى عبد الله بن عمر يتربع فى الصلاة إذا جلس، قال: ففعلته وأنا يومئذ حديث السن، فنهاني عبد الله بن عمر وقال: إنما سنة الصلاة أن تنصب رجلك اليمنى وتثني رجلك اليسرى، فقلت له: فإنك تفعل ذلك، فقال: إن رجلي لا تحملاني.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر بن الخطاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ دیکھتے تھے کہ (ان کے والد) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز میں (تشہد کے لئے) بیٹھتے ہیں تو چار زانو بیٹھتے ہیں انہوں نے کہا کہ (ایک دفعہ) میں نے بھی ایسا کیا اور ان دنوں میں چھوٹا بچہ تھا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے منع کیا اور فرمایا: نماز کی سنت تو یہ ہے کہ تم اپنا دایاں پاؤں کھڑا کرو اور بایاں پاؤں بچھا دو، میں نے آپ سے کہا: آپ تو چار زانو بیٹھتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میرے پاؤں مجھے اٹھا نہیں سکتے، یعنی میں بیمار ہوں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 125]
تخریج الحدیث
«383- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 89/1، 90، ح 198، ك 3 ب 12 ح 51) التمهيد 345/19، الاستذكار: 198، و أخرجه البخاري (827) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح