بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
خارجیوں کا بیان
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) ایمان و عقائد کے مسائل خارجیوں کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 18 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
491- وعن محمد بن إبراهيم بن الحارث التيمي عن أبى سلمة بن عبد الرحمن عن أبى سعيد الخدري أنه قال: ”سمعت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يقول: يخرج فيكم قوم تحقرون صلاتكم مع صلاتهم، وصيامكم مع صيامهم، وعملكم مع عملهم، يقرؤون القرآن لا يجاوز حناجرهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية، تنظر فى النصل فلا ترى شيئا، ثم تنظر فى القدح فلا ترى شيئا ثم تنظر فى الريش فلا ترى شيئا، وتتمارى فى الفوق“.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں ایسی قوم نکلے گی کہ تم اپنی نمازوں کو ان کی نمازوں کی نسبت، اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں اور اپنے عمل کو ان کے عمل کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے، وہ قرآن پڑھیں گے (لیکن) وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں جیسے تیر اپنے شکار سے پار نکل جاتا ہے۔ تم تیر کی اَنّی (پھل) دیکھو تو اس میں کچھ (خون وغیرہ) نہ پاؤ، اگر تیر کی لکڑی دیکھو تو اس میں بھی کچھ نہ پاؤ، اگر اس کا پر دیکھو تو اس میں کچھ نشان نہ پاؤ اور تیر کے سوفار (جہاں کمان کی تان ٹکتی ہے) کے بارے میں شک کرو (کہ اس میں کوئی اثر ہے یا نہیں)۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/1/حدیث: 18]
تخریج الحدیث
«491- الموطأ (رواية يحيیٰي بن يحيیٰي 204/1، 205 ح 479، ك 15 ب 4 ح 10) التمهيد 320/23، وقال: ”هذا حديث صحيح الإسناد ثابت“، الاستذكار: 448 و أخرجه البخاري (5058) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح