بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تقدیر کا بیان
Muwatta Malik (Ibn al-Qasim)
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) ایمان و عقائد کے مسائل تقدیر کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 4 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
361- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”تحاج آدم وموسى فحج آدم موسى، فقال له موسى: أنت آدم الذى أغويت الناس وأخرجتهم من الجنة؟ فقال له آدم: أنت موسى الذى أعطاك الله علم كل شيء واصطفاك على الناس برسالاته؟ قال: نعم، قال: أفتلومني على أمر قد قدر على قبل أن أخلق“.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سیدنا آدم علیہ السلام اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے درمیان مباحثہ ہوا تو موسیٰ علیہ السلام نے انہیں کہا: آپ وہ آدم ہیں جنہوں نے لوگوں کو جنت سے نکال دیا اور پھسلا دیا؟ تو آدم علیہ السلام نے انہیں جواب دیا: آپ وہ موسیٰ ہیں جنہیں اللہ نے ہر چیز کا علم دیا اور اپنی رسالت کے ساتھ لوگوں میں سے چنا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آدم علیہ السلام نے کہا: آپ مجھے اس بات پر ملامت کرتے ہیں جو اللہ نے میری پیدائش سے پہلے میری تقدیر میں لکھ دی تھی۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/1/حدیث: 4]
تخریج الحدیث
«361- الموطأ (رواية يحيیٰي بن يحيیٰي 898/2 ح 1725، ك 46 ب 1 ح 1) التمهيد 11/18، الاستذكار: 1657 وأخرجه مسلم (2652) من حديث مالك به، و البخاري (6614) من حديث ابي الزناد به وفي رواية يحيي بن يحيي: ”بِرِسَالَتِهِ“.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 5 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
187- مالك عن زياد بن سعد عن عمر بن مسلم عن طاووس أنه قال: أدركت ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يقولون: كل شيء بقدر. قال: وسمعت عبد الله بن عمر يقول: قال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: كل شيء بقدر حتى العجز والكيس.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
طاؤس (تابعی) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک جماعت کو یہ کہتے ہوئے پایا ہے کہ ہر چیز تقدیر سے ہے۔ طاؤس نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہر شے تقدیر سے ہے حتیٰ کہ عاجزی اور عقل مندی بھی تقدیر سے ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/1/حدیث: 5]
تخریج الحدیث
«187- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 899/2 ح 1728، ك 46 ب 1 ح 4) التمهيد 62/2، الاستذكار:1660 و أخرجه مسلم (2655) من حديث مالك به من رواية يحيي بن يحيي وجاء في الأصل: عمر بن مسلم.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
حدیث نمبر: 6 موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)
362- وبه قال: قال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”لا تسأل المرأة طلاق أختها لتستفرغ صحفتها ولتنكح، فإنما لها ما قدر لها.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کا پیالہ (اپنے لئے) خالی کرائے اور خود نکا ح کر لے، پس اسے وہی ملے گا جو اس کے لئے مقدر ہے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/1/حدیث: 6]
تخریج الحدیث
«362- الموطأ (رواية يحيیٰي بن يحيیٰي 900/2 ح 1731، ك 46 ب 2 ح 7) التمهيد 165/18، الاستذكار: 1663 وأخرجه البخاري (6601)، من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح