بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 626 — رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) فضائل و سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کا بیان حدیث 626
119- وبه: أنه سمع أنس بن مالك يقول: قال أبو طلحة لأم سليم: لقد سمعت صوت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ضعيفا أعرف فيه الجوع، هل عندك من شيء؟ فقالت: نعم. فأخرجت أقراصا من شعير، ثم أخذت خمارا لها فلفت الخبز ببعضه، ثم دسته تحت يدي وردتني ببعضه، ثم أرسلتني إلى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم. قال: فذهبت به فوجدت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم جالسا فى المسجد ومعه الناس فقمت عليهم فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”آرسلك أبو طلحة؟“ فقلت: نعم. فقال: ”لطعام؟“ فقلت: نعم. فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم لمن معه: ”قوموا.“ قال: فانطلق وانطلقت بين أيديهم حتى جئت أبا طلحة فأخبرته. فقال أبو طلحة: يا أم سليم، قد جاء رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بالناس وليس عندنا من الطعام ما نطعمهم. فقالت: الله ورسوله أعلم. قال: فانطلق أبو طلحة حتى لقي رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم، فأقبل رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم وأبو طلحة حتى دخلا فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”هلم يا أم سليم ما عندك.“ فأتت بذلك الخبز. قال: فأمر به رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ففت، وعصرت عليه أم سليم عكة لها فآدمته، ثم قال فيه رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ما شاء الله أن يقول. ثم قال: ”إئذن لعشرة“ فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا ثم قال: ”إئذن لعشرة“ فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا. ثم قال: ”إئذن لعشرة“ فأذن لهم فأكلوا حتى شبعوا ثم خرجوا. ثم أذن لعشرة حتى أكل القوم كلهم وشبعوا، والقوم سبعون رجلا أو ثمانون رجلا.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ انہوں (اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ) نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: ابوطلحہ نے(اپنی بیوی) ام سلیم رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز کمزور سنی ہے اس میں بھوک کا اثر محسوس کرتا ہوں، کیا تمہارے پاس (کھانے کے لئے) کوئی چیز ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں! پھر انہوں نے جوَ کی کچھ روٹیاں نکالیں، پھر اپنا ایک دوپٹہ لے کر اس میں  روٹیاں اوپر نیچے ڈھانپ دیں پھر انہیں میری بغل میں دبا دیا اور بعض حصے کو میری چادر بنا دیا پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بھیجا گیا تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گرد لوگ بیٹھے ہیں، میں ان کے قریب کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا تجھے ابوطلحہ نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا کھانے کے لئے؟ میں نے کہا: جی ہاں! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اٹھو (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا:! پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روانہ ہوئے اور میں آگے آگے چلا حتی ٰ کہ جا کر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بتایا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ام سلیم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے ساتھ تشریف لا رہے ہیں اور ہمارے پاس انہیں کھلانے کے لئے کھانا نہیں ہے اُمِ سلیم رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ جانتے ہیں، پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ دونوں تشریف لائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اُم سلیم! جو کچھ تمہارے پاس ہے لے آو تو وہ روٹیاں لائیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا تو ان روٹیوں کے ٹکڑے کر کے چُوری بنائی گئی اور اُم سلیم نے اس پر ایک برتن سے گھی نچوڑا تو یہ چُوری نما سالن بن گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ دعا پڑھی جو اللہ نے چاہی پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دس آدمیوں کو لے آؤ۔ دس آ دمی بلائے گئے حتیٰ کہ انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا اور باہر چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دس آ دمیوں کو بلاؤ دس آدمی بلائے گئے تو انہوں نے خوب پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور باہر چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دس آ دمیوں کو بلاؤ دس آ دمی بلائے گئے تو انہوں نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا اور باہر چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس آدمی بلائے حتیٰ کہ سارے آدمیوں نے جو ستر یا اسی تھے خوب پیٹ پھر کر سیر ہو کر کھانا کھایا ۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 626]
تخریج الحدیث
«119- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 927/2، 928 ح 1789، ك 49 ب 10 ح 19) التمهيد 288/1، 289، الاستذكار: 1722، و أخرجه البخاري (5381) ومسلم (2040) من حديث مالك به، من رواية يحيي بن يحيي، من رواية يحيي جاء فى الأصل: ”هلم“.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
← پچھلی حدیث (625) باب پر واپس اگلی حدیث (627) →