بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 611 — ایک دوسرے سے اللہ کے لئے محبت کرنے کی فضیلت
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) زہد سے متعلق مسائل ایک دوسرے سے اللہ کے لئے محبت کرنے کی فضیلت حدیث 611
414- وعن أبى حازم بن دينار عن أبى إدريس الخولاني أنه قال: دخلت مسجد دمشق فإذا فتى براق الثنايا، وإذا الناس معه إذا اختلفوا فى شيء أسندوه إليه وصدروا عن رأيه فسألت عنه فقيل هذا معاذ بن جبل. فلما كان من الغد هجرت إليه فوجدته قد سبقني بالتهجير ووجدته يصلي قال: فانتظرته حتى قضى صلاته ثم جئته من قبل وجهه، فسلمت عليه ثم قلت: والله إني لأحبك لله، فقال: آلله؟ فقلت: والله، فقال: آلله؟ فقلت: والله، قال: فأخذ بحبوة ردائي فجبذني إليه وقال: أبشر، إني سمعت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يقول: ”قال الله وجبت محبتي للمتحابين فى والمتجالسين فى والمتزاورين فى والمتباذلين في.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
ابوادریس الخوالانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا تو چمکتے دانتوں والا ایک نوجوان دیکھا اور لوگ اس کے پاس (جمع) تھے، جب کسی چیز میں ان کا اختلاف ہوتا تو اس کی طرف رجوع کرتے اور اس کی رائے (فیصلے) کی طرف رجوع کرتے۔ میں نے پوچھا: کہ یہ کون ہے؟ تو کہا گیا: یہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر اگلی صبح میں جلدی آیا تو دیکھا کہ وہ مجھ سے بھی پہلے آ کر نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے ان کا انتظار کیا، وہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان کے سامنے آ کر انہیں سلام کیا پھر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا: کیا اللہ کی قسم سے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم سے! انہوں نے کہا: کیا اللہ کی قسم سے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم سے! تو انہوں نے میری چادر کا کنارہ (پلو) پکڑ کی اپنی طرف کھینچا اور فرمایا: تمہارے لئے خوشخبری ہے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ فرماتا ہے: میری محبت ان دو آدمیوں کے لئے واجب ہو گئی جو ایک دوسرے سے میری وجہ سے محبت کرتے ہیں اور مجلس میں میرے لئے بیٹھتے ہیں اور میرے لئے ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں اور میرے لئے ایک دوسرے پر مال خرچ کرتے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 611]
تخریج الحدیث
«414- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 953/2، 954ح 1843، ك 51 ب 5 ح 16) التمهيد 124/21،125، الاستذكار: 1779، و أخرجه أحمد (233/5) وعبد بن حميد (125) من حديث مالك به وصححه ابن حبان (المورد: 2510) الحاكم (168/4-170) عليٰ شرط الشيخين ووافقه الذهبي.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح
← پچھلی حدیث (610) باب پر واپس اگلی حدیث (612) →