371- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم قال: ”والذي نفسي بيده، ليأخذ أحدكم حبله فيحتطب على ظهره خير له من أن يأتي رجلا أعطاه الله من فضله فيسأله، أعطاه أو منعه.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی آدمی اپنی رسی لے، پھر لکڑیاں اکھٹی کر کے اپنی پیٹھ پر (رکھ کر) لے آئے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسے آدمی کے پاس جا کر مانگے جسے اللہ نے اپنے فضل (مال) سے نواز رکھا ہو۔ وہ اسے دے یا دھتکار دے۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 599]
تخریج الحدیث
«371- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 998/2، 999 ح 1948، نحو المعنيٰ، ك 58 ب 2 ح 10) التمهيد 320/18، الاستذكار: 1885، و أخرجه البخاري (1470) من حديث مالك به، وفي رواية يحيي بن يحيي: ”لان ياخذ“.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح