213- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بعث سرية فيها عبد الله بن عمر قبل نجد، فغنموا إبلا كثيرة، فكانت سهمانهم اثني عشر بعيرا أو أحد عشر بعيرا ونفلوا بعيرا بعيرا.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نجد کی طرف (مجاہدین کا) ایک دستہ روانہ کیا جس میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے۔ پھر انہیں مال غنیمت میں بہت سے اونٹ ملے تو ہر آدمی کے حصے میں بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ آئے پھر ہر ایک کو ایک ایک اونٹ زائد دیا گیا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 566]
تخریج الحدیث
«213- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 450/2 ح 1000، ك 21 ب 6 ح 15) التمهيد 35/14، الاستذكار:939، و أخرجه البخاري (3134) ومسلم (1749/35) من حديث مالك به .»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح