بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 564 — فتح کے بعد حربی کافر کا قتل جائز ہے
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) جہاد سے متعلق مسائل فتح کے بعد حربی کافر کا قتل جائز ہے حدیث 564
2- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم دخل مكة عام الفتح وعلى رأسه المغفر فلما نزعه جاءه رجل فقال: يا رسول الله، ابن خطل متعلق بأستار الكعبة، فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”اقتلوه.“ قال ابن شهاب: ولم يكن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يومئذ محرما.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند (کے ساتھ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر خود تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اتارا تو ایک آدمی نے آ کر کہا: اے اللہ کے رسول! ابن خطل (ایک کافر) کعبہ کے پردوں سے لٹکا (چمٹا) ہوا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل کر دو۔ ابن شہاب (زہری) کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دن احرام میں نہیں تھے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 564]
تخریج الحدیث
«2- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 423/1 ح 975، ك 20 ب 81 ح 247وعنده: قال مالك: ”ولم يكن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم يومذ محرما) التمهيد 157/6، الاستذكار: 916، أخرجه البخاري (1846، 3044، 4248، 5808) ومسلم (1357) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (563) باب پر واپس اگلی حدیث (565) →