218- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أدرك عمر بن الخطاب وهو يسير فى ركب وهو يحلف بأبيه، فقال رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم: ”إن الله ينهاكم أن تحلفوا بآبائكم، فمن كان حالفا فليحلف بالله أو ليصمت.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے) روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک قافلے میں سفر کرتے ہوئے اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تمہیں تمہارے والدین کی قسمیں کھانے سے منع کرتا ہے لہٰذا جو شخص قسم کھانا چاہے تو اللہ کی قسم کھائے یا چپ رہے۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 543]
تخریج الحدیث
«218- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 480/2 ح 1056، ك 22 ب 9 ح 14) التمهيد 366/14، الاستذكار:990، و أخرجه البخاري (6646) ومسلم (1646/3) من حديث نافع به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح