55- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم سئل عن الأمة إذا زنت ولم تحصن، فقال: إن زنت فاجلدوها، ثم إن زنت فاجلدوها، ثم إن زنت فاجلدوها، ثم بيعوها ولو بضفير.“ قال مالك: قال ابن شهاب: فلا أدري أبعد الثالثة أو الرابعة، والضفير: الحبل.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہما) روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس لونڈی کے بارے میں پوچھا: گیا جو زنا کرے اور وہ محصنہ (شادی شدہ) نہ ہو تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ، پھر اگر زنا کرے تواسے کوڑے لگاؤ، پھر اسے بیچ دو اگرچہ (اس کی قیمت) «ضيفر» (ایک رسی) ہی ہو۔“ زہری نے کہا: مجھے معلوم نہیں ہے کہ آپ نے یہ بات تیسری دفعہ فرمائی یا چوتھی دفعہ؟ اور «ضيفر» رسی کو کہتے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 535]
تخریج الحدیث
«55- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 826/2، ح 1606، ك 41، ب 3، ح 14) التمهيد 94/9، الاستذكار: 1534، و أخرجه البخاري (2154، 2153) من حديث مالك به ورواه مسلم (1704/33) من حديث الزهري به .»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح