39- وبه: أنها أخبرته أن أفلح أخا أبى القعيس جاء يستأذن عليها -وهو عمها من الرضاعة- بعد أن نزل الحجاب، قالت: فابيت أن آذن له. فلما جاء رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أخبرته بالذي صنعت فأمرني أن آذن له علي.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ روایت ہے کہ ان (عروہ بن الزبیر) کو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا: ابوالقعیس کے بھائی افلح جو کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا تھے، انہوں نے پردے کی فرضیت کے بعد میرے (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے) پاس آنے کی اجازت چاہی تو میں نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا کہ میں نے یہ کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں انہیں آنے کی اجازت دے دوں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 378]
تخریج الحدیث
«39- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 602/2ح 1315۔ ك 30 ب 1 ح 3) التمهيد 235/8، الاستذكار: 1235، و أخرجه البخاري (5103) ومسلم (1445/3) من حديث مالك به، من رواية يحيي بن يحيي.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح