492- وعن محمد بن إبراهيم عن عيسى بن طلحة بن عبيد الله عن عمير بن سلمة الضمري أنه أخبره عن البهزي: أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم خرج يريد مكة وهو محرم، حتى إذا كان بالروحاء إذا حمار وحشي عقير، فذكر لرسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فقال: ”دعوه، فإنه يوشك أن يأتي صاحبه فجاء البهزي وهو صاحبه إلى رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم فقال: يا رسول الله، شأنكم بهذا الحمار، فأمر رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أبا بكر فقسمه بين الرفاق، ثم مضى حتى إذا كان بالأثاية بين الرويثة والعرج إذا ظبي حاقف فى ظل وفيه سهم، فزعم أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أمر رجلا أن يقف عنده لا يريبه أحد من الناس حتى تجاوزه.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
سیدنا البہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ جانے کے لئے (مدینے سے) نکلے اور آپ حالت احرام میں تھے۔ جب آپ روحاء(کے مقام) پر پہنچے تو وہاں ایک گورخر رخمی حالت میں کونچیں کٹا ہوا پڑا تھا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کے بارے میں بتایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، ہو سکتا ہے کہ اس کا مالک یا اسے شکار کرنے والا آ جائے۔“ پھر بہزی رضی اللہ عنہ آ گئے جو اس کے مالک یا شکار کرنے والے تھے تو انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اسے لے لیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوبکر (صدیق رضی اللہ عنہ) کو حکم دیا کہ اسے ساتھیوں میں تقسیم کر دیں پھر آپ چلے حتی کہ رویثہ اور عرج کے درمیان اثایہ (مقام پر) پہنچے تو دیکھا کہ ایک ہرن سر جھکائے سائے میں کھڑا ہے اور اسے ایک تیر لگا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اس کے پاس کھڑا رہے تاکہ لوگوں میں سے کوئی اسے نہ چھیڑے حتیٰ کہ لوگ یہاں سے آگے چلے جائیں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 312]
تخریج الحدیث
«492- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 351/1ح 797، ك 20 ب 24 ح 79) التمهيد 341/23، الاستذكار: 749، و أخرجه النسائي (182/5، 183 ح 2820) من حديث ابن القاسم عن مالك به وصححه ابن حبان (الموارد: 983)، وفي رواية يحييٰي بن يحييٰي: ”حتي يجاوزه“ .»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح