214- وبه: أن عمر بن الخطاب حمل على فرس عتيق فى سبيل الله، فوجده يباع، فأراد أن يبتاعه فسأل رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم عن ذلك، فقال: ”لا تبتعه ولا تعد فى صدقتك.“
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ (سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے) روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں ایک بہترین گھوڑا صدقہ کیا تھا، پھر دیکھا کہ وہ گھوڑا بیچا جا رہا ہے تو اسے خریدنے کا ارادہ کیا، پھر انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے نہ خریدو اور اپنا صدقہ واپس نہ لو۔“ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 286]
تخریج الحدیث
«214- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 282/1 ح 630، ك 17 ب 26 ح 50) التمهيد 74/14، الاستذكار:581، و أخرجه البخاري (2971) ومسلم (1621) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح