438- وعن أبى بكر بن عبد الرحمن عن بعض أصحاب رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أن رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم أمر الناس فى سفره عام الفتح بالفطر، وقال: ”تقووا لعدوكم“ وصام رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم. قال أبو بكر: قال الذى حدثني: قد رأيت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بالعرج يصب على رأسه الماء من العطش أو من الحر، ثم قيل: يا رسول الله إن طائفة من الناس صاموا حين صمت فلما كان رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بالكديد دعا بقدح ماء فشرب وأفطر الناس معه. كمل حديث سمي وهو أحد عشر حديثا.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی صحابی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ والے سال اپنے سفر میں لوگوں کو حکم دیا کہ روزے نہ رکھو، اور فرمایا: دشمنوں کے مقابلے میں طاقت حاصل کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا۔ ابوبکر (بن عبدالرحمٰن رحمہ اللہ) نے کہا: جس نے مجھے یہ حدیث بیان کی، اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عرج کے مقام پر دیکھا کہ پیاس یا گرمی کی وجہ سے آپ کے سر پر پانی ڈالا جا رہا ہے۔ پھر کہا گیا: یا رسول اللہ! آپ نے روزہ رکھا ہے تو لوگوں میں سے ایک گروہ نے بھی روزہ رکھا ہے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کدید کے مقام پر پہنچے تو پانی کا ایک پیالہ منگوایا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی پیا اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ روزہ افطار کر لیا۔ سُمی(رحمہ اللہ)کی بیان کردہ حدیثیں مکمل ہوئیں اور وہ گیارہ حدیثیں ہیں۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 250]
تخریج الحدیث
«438- الموطأ (رواية يحييٰي بن يحييٰي 294/1 ح 660، ك 18 ب 7 ح 22) التمهيد 47/22 الاستذكار: 610، و أخرجه أبوداود (2365) و أحمد (475/3) من حديث مالك به وصححه ابن عبدالبر فى التمهيد (47/22) ولبعض الحديث شاهد فى صحيح مسلم (1114)»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح