115- وبه: عن أنس أن جدته مليكة دعت رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم لطعام صنعته له فأكل منه، ثم قال: ”قوموا فلأصلي لكم.“ قال أنس: فقمت إلى حصير لنا قد اسود من طول ما لبث، فنضحته بماء، فقام رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم وصففت أنا واليتيم وراءه والعجوز من ورائنا، فصلى لنا ركعتين ثم انصرف.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی دادی سیدہ ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے کھانا تیار کر کے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعوت دی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: ”اٹھو! میں تمہیں نماز پڑھا دوں“ انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اٹھ کر اپنی چٹائی کے پاس گیا جو طویل عرصے تک پڑی رہنے کی وجہ سے سیاہ ہو چکی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو گئے، ایک یتیم اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے صف بنا لی اور بڑھیا ہمارے پیچھے (علیحدہ صف میں) تھیں، پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں دو (نفل) رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 152]
تخریج الحدیث
«115- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 153/1 ح 359، ك 9 ب 9 ح 31) التمهيد 263/1، الاستذكار: 329، و أخرجه البخاري (860) ومسلم (658) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي
سنده صحيح
الحكم: سنده صحيح