بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم)

حدیث نمبر: 145 — چاشت کی نماز مستحب ہے
کتب موطا امام مالک (روایۃ ابن قاسم) نوافل و سنن کا بیان چاشت کی نماز مستحب ہے حدیث 145
37- وبه: عن عائشة أم المؤمنين أنها قالت: ما سبح رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم سبحة الضحى قط وإني لأستحبها، وإن كان رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم ليدع العمل وهو يحب أن يعمل به خشية أن يعمل به الناس فيفرض عليهم.
ترجمہ: حافظ زبیر علی زئی
اور اسی سند کے ساتھ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز (ہمیشہ) کبھی نہیں پڑھی اور میں اس نماز کو مستحب سمجھتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک عمل کو پسند کرنے کے باوجود (بعض اوقات) اس خوف کی وجہ سے چھوڑ دیتے تھے کہ کہیں اس پر لوگوں کے عمل کرنے کی وجہ سے فرض نہ ہو جائے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 145]
تخریج الحدیث
«37- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 152/1، 153 ح 357، ك 9 ب 8 ح 29 وعنده: وابي لا سبحها [اور ميں يه نماز پڑهتي هوں] ) التمهيد 134/8، الاستذكار: 127، و أخرجه البخاري (1128) ومسلم (718) من حديث مالك به نحو المعنيٰ.»
قال الشيخ زبير على زئي
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (144) باب پر واپس اگلی حدیث (146) →