بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ ذِي الْيَدَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 16707 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، شُعَيْثُ بْنُ مُطَيْرٍ ، أَبِيهِ مُطَيْرٍ ، ذُو الْيَدَيْنِ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْثُ بْنُ مُطَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ مُطَيْرٍ ، ومُطَيْرٌ حَاضِرٌ يُصَدِّقُهُ مَقَالَته: كَيْفَ كُنْتُ أَخْبَرْتُكَ؟، قَالَ: يَا أَبَتَاهُ، أَخْبَرْتَنِي أَنَّكَ لَقِيَكَ ذُو الْيَدَيْنِ بِذِي خُشُبٍ، فَأَخْبَرَكَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ؟ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَهُمَا مُبْتَدَّيْه، فَلَحِقَهُ ذُو الْيَدَيْنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟، فَقَالَ:" مَا قَصُرَتْ الصَّلاَة، وَلَا نَسِيتُ"، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟"، فَقَالَا: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَثَابَ النَّاسُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ، قَالَ أَبُو سُلَيْمَانَ حَدَّثْتُ سِتَّ سِنِينَ، أَوْ سَبْعَ سِنِينَ ثُمَّ سَلَّمَ، وَشَكَكْتُ فِيهِ، وَهُوَ أَكْثَرُ حِفْظِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معدی بن سلیمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مطیر نے اپنے بیٹے شعیث بن مطیر سے کہا کہ میں نے تمہیں وہ روایت کیسے بتائی تھی؟ شعیث نے جواب دیا کہ ابا جان! آپ نے مجھے بتایا تھا کہ مقام ذی خشب میں سیدنا ذوالیدین آپ سے ملے تھے، انہوں نے آپ کو بتایا تھا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر یا عصر غالباً عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا، جلد باز قسم کے لوگ یہ دیکھ کر نماز کی رکعتیں کم ہو گئیں کہتے ہوئے مسجد سے نکل گئے۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی کھڑے ہوئے اور سیدنا ابوبکر وعمر بھی پیچھے پیچھے چلے کہ ذوالیدین سامنے سے آ گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ!! نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں اور نہ ہی میں بھولا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرات شیخین کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں؟ دونوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! یہ سچ کہہ رہے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی واپس آ گئے اور لوگ بھی واپس آ گئے اور دو رکعتیں مزید پڑھائیں اور سلام پھیر کر سجدہ سہو کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16707]
حکم دارالسلام
صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف، معدي بن سليمان ضعيف، وشعيث بن مطير وأبوه مجهولان
الحكم: صحيح الغيره، وهذا إسناد ضعيف، معدي بن سليمان ضعيف، وشعيث بن مطير وأبوه مجهولان
حدیث نمبر: 16708 مسند احمد
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، مُطَيْرًا ، ذِي الْيَدَيْنِ ، شُعَيْثٌ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: أَتَيْتُ مُطَيْرًا لِأَسْأَلَهُ عَنْ حَدِيثِ ذِي الْيَدَيْنِ ، فَأَتَيْتُهُ فَسَأَلْتُهُ فَإِذَا هُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يُنْفِذُ الْحَدِيثَ مِنَ الْكِبَرِ، فَقَالَ ابْنُهُ شُعَيْثٌ : بَلَى، يَا أَبَتِ، حَدَّثَتْنِي أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ لَقِيَكَ بِذِي خُشُبٍ، فَحَدَّثَكَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتَيْ الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ، فَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ، فَقَالَ: أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ؟ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَقَالَ ذُو الْيَدَيْنِ: أَقَصُرَتْ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟، قَالَ:" مَا قَصُرَتْ الصَّلَاةُ وَلَا نَسِيتُ" ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟"، فَقَالَا: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَثَابَ النَّاسُ، وَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْ السَّهْوِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معدی بن سلیمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مطیر نے اپنے بیٹے شعیث بن مطیر سے کہا کہ میں نے تمہیں وہ روایت کیسے بتائی تھی؟ شعیث نے جواب دیا کہ ابا جان! آپ نے مجھے بتایا تھا کہ مقام ذی خشب میں سیدنا ذوالیدین آپ سے ملے تھے، انہوں نے آپ کو بتایا تھا کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر یا عصر غالباً عصر کی نماز پڑھائی اور دو رکعتوں پر ہی سلام پھیر دیا، جلد باز قسم کے لوگ یہ دیکھ کر نماز کی رکعتیں کم ہو گئیں کہتے ہوئے مسجد سے نکل گئے۔ ادھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی کھڑے ہوئے اور سیدنا ابوبکر وعمر بھی پیچھے پیچھے چلے کہ ذوالیدین سامنے سے آ گئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ!! نماز کی رکعتیں کم ہو گئی ہیں یا آپ بھول گئے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز کی رکعتیں کم ہوئی ہیں اور نہ ہی میں بھولا ہوں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرات شیخین کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ذوالیدین کیا کہہ رہے ہیں؟ دونوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! یہ سچ کہہ رہے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی واپس آ گئے اور لوگ بھی واپس آ گئے اور دو رکعتیں مزید پڑھائیں اور سلام پھیر کر سجدہ سہو کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16708]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، راجع ما قبله
الحكم: إسناده ضعيف، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 16709 مسند احمد
أَبُو مَعْمَرٍ ، ابْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ
(حديث موقوف) قال قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ ، فَقَالَ مَا كَانَ مَنْزِلَةُ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ:" مَنْزِلَتُهُمَا السَّاعَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن ابوحازم کہتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا علی بن حسین (امام زین العابدین) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر وعمر کا کیا مقام و مرتبہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جو انہیں اس وقت حاصل ہے۔ فائدہ: جس طرح وہ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رفیق ہیں، دنیا میں بھی تھے اور آخرت میں بھی ہوں گے۔ ان شاء اللہ۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16709]
حکم دارالسلام
هذا الأثر إسناده ضعيف، ابن أبى حازم لم نعرفه، فإن كان عبدالعزيز بن أبى حازم سلمة ابن دينار فالإسناد منقطع، لأنه لم يدرك على بن الحسين
الحكم: هذا الأثر إسناده ضعيف، ابن أبى حازم لم نعرفه، فإن كان عبدالعزيز بن أبى حازم سلمة ابن دينار فالإسناد منقطع، لأنه لم يدرك على بن الحسين