بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِيَّةُ حَدِيثِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 33
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 16677 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عْنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَغْشَى الدَّارَ أَوْ الدِّيَارَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لَيْلًا مَعَهُمْ صِبْيَانُهُمْ وَنِسَاؤُهُمْ، فَنَقْتُلُهُمْ؟، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان مشرکین کے اہل خانہ کے متعلق پوچھا: گیا جن پر شب خون مارا جائے اور اس دوران ان کی عورتیں اور بچے بھی مارے جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ (عورتیں اور بچے) بھی مشرکین ہی کے ہیں (اس لئے مشرکین ہی میں شمار ہوں گے)۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16677]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3012، م: 1745، مسلم بن خالد ضعيف، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 3012، م: 1745، مسلم بن خالد ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16678 مسند احمد
أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، الزَّنْجِيِّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الزَّنْجِيِّ ، قَالَ:" رَأَيْتُ الزُّهْرِيَّ صَابِغًا رَأْسَهُ بِالسَّوَادِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زنگی کہتے ہیں کہ میں نے امام زہری کو اپنے سر پر سیاہ رنگ کئے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16678]
حکم دارالسلام
هذا الأثر صحيح، الزنجي ضعيف، لكنه توبع
الحكم: هذا الأثر صحيح، الزنجي ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 16679 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، ابْنُ شُمَيْلٍ يَعْنِي النَّضْرَ ، مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ الْكَوْسَجُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ شُمَيْلٍ يَعْنِي النَّضْرَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ عَمْرٍو ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ ، قَالَ: كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی علاقے کو ممنوعہ علاقہ قرار دینا اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16679]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن عمرو حسن الحديث، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن عمرو حسن الحديث، وقد توبع
حدیث نمبر: 16680 مسند احمد
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: وَأَهْدَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَعَرَفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِي، فَقَالَ:" إِنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، میں نے آپ کی خدمت میں جنگلی گدھے کا گوشت ہدیۃ پیش کیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مجھے واپس کر دیا اور جب میرے چہرے پر غمگینی کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ اسے واپس کرنے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم محرم ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16680]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1825، م: 1193
الحكم: حديث صحيح، خ: 1825، م: 1193
حدیث نمبر: 16681 مسند احمد
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَسَأَلْتُهُ عَنْ أَوْلَادِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" اقْتُلْهُمْ مَعَهُمْ"، قَالَ: وَقَدْ نَهَى عَنْهُمْ يَوْمَ خَيْبَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے متعلق پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں بھی قتل کر دو، پھر خیبر کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی ممانعت فرما دی تھی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16681]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3012، م: 1765، محمد بن عمرو حسن الحديث، وقد توبع والقائل: وقد نهى عنهم يوم خيبر: هو الزهري ولفظ خيبر تحريف قديم، والصواب: حنين
الحكم: حديث صحيح، خ: 3012، م: 1765، محمد بن عمرو حسن الحديث، وقد توبع والقائل: وقد نهى عنهم يوم خيبر: هو الزهري ولفظ خيبر تحريف قديم، والصواب: حنين
حدیث نمبر: 16682 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَعْنِي الْحُمَيْدِيَّ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيُّ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَعْنِي الْحُمَيْدِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي الصَّعْبُ بْنُ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ عَنْ أَهْلِ الدَّارِ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَيُبَيَّتُونَ، فَيُصَابُ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ؟، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هُمْ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان مشرکین کے اہل خانہ کے متعلق پوچھا: گیا جن پر شب خون مارا جائے اور اس دوران ان کی عورتیں اور بچے بھی مارے جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ (عورتیں اور بچے) بھی مشرکین ہی کے ہیں (اس لئے مشرکین ہی میں شمار ہوں گے)۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16682]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3012، م: 1745
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3012، م: 1745
حدیث نمبر: 16683 مسند احمد
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی علاقے کو ممنوعہ علاقہ قرار دینا اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16683]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3012، م: 1745
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3012، م: 1745
حدیث نمبر: 16684 مسند احمد
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) وَأَهْدَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَحْمَ حِمَارِ وَحْشٍ وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ، أَوْ بِوَدَّانَ، فَرَدَّهُ عَلَيَّ، فَلَمَّا رَأَى الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِي، قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ مِنَّا رَدٌّ عَلَيْكَ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، میں نے آپ کی خدمت میں جنگلی گدھے کا گوشت ہدیۃ پیش کیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مجھے واپس کر دیا اور جب میرے چہرے پر غمگینی کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ اسے واپس کرنے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم محرم ہیں سفیان کہتے ہیں کہ سیدنا صعب کی مذکورہ حدیث ہمیں عمرو بن دینار نے امام زہری کے حوالے سے بتائی، اس وقت تک ہم امام زہری سے نہیں ملے تھے، عمرو نے اس حدیث میں یہ کہا تھا کہ مشرکین کے بچے انہی میں سے ہیں، لیکن جب امام زہری ہمارے یہاں آئے تو میں نے ان سے اس حدیث کی تحقیق کی، انہوں نے یہ لفظ نہیں فرمایا: بلکہ یہ فرمایا: تھا کہ وہ اپنے آباؤ اجداد سے بہتر ہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16684]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقال سفيان: «لحم حمار وحش» والمحفوظ: حمار وحش
الحكم: حديث صحيح، وقال سفيان: «لحم حمار وحش» والمحفوظ: حمار وحش
حدیث نمبر: 16685 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، الزُّهْرِيِّ
قَالَ سُفْيَانُ : فَحَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، بِحَدِيثِ الصَّعْبِ هَذَا، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَبْلَ أَنْ نَلْقَاهُ، فَقَالَ فِيهِ:" هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ" فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا الزُّهْرِيُّ تَفَقَّدْتُهُ فَلَمْ يَقُلْ، وَقَالَ: هُمْ خَيْرٌ مِنْهُمْ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3012، م: 1745
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3012، م: 1745
حدیث نمبر: 16686 مسند احمد
دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو سُلَيْمَانَ الضَّبِّيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو أَبُو سُلَيْمَانَ الضَّبِّيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الدَّارُ مِنْ دُورِ الْمُشْرِكِينَ نُصَبِّحُهَا لِلْغَارَةِ، فَنُصِيبُ الْوِلْدَانَ تَحْتَ بُطُونِ الْخَيْلِ وَلَا نَشْعُرُ؟، فَقَالَ:" إِنَّهُمْ مِنْهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان مشرکین کے اہل خانہ کے متعلق پوچھا: گیا جن پر شب خون مارا جائے اور اس دوران ان کی عورتیں اور بچے بھی مارے جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ (عورتیں اور بچے) بھی مشرکین ہی کے ہیں (اس لئے مشرکین ہی میں شمار ہوں گے)۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16686]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3012، م: 1745 ، وهذا إسناد ضعيف، عبدالرحمن بن أبى الزناد وعبدالرحمن بن الحارث ضعيفان، وعبدالرحمن بن الحارث لم يسمع من عبيدالله
الحكم: حديث صحيح، خ: 3012، م: 1745 ، وهذا إسناد ضعيف، عبدالرحمن بن أبى الزناد وعبدالرحمن بن الحارث ضعيفان، وعبدالرحمن بن الحارث لم يسمع من عبيدالله
حدیث نمبر: 16687 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ
(حديث مرفوع) قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيِّ ، أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ حِمَارًا وَحْشِيًّا، فَرَدَّهُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فِي وَجْهِي، قَالَ:" إنَّا لَمْ نَرُدَّهُ عَلَيْكَ إِلَّا أَنَّا حُرُمٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے، میں اس وقت مقام ابواء یاودان میں تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے، میں نے آپ کی خدمت میں جنگلی گدھے کا گوشت ہدیۃ پیش کیا، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مجھے واپس کر دیا اور جب میرے چہرے پر غمگینی کے آثار دیکھے تو فرمایا کہ اسے واپس کرنے کی اور کوئی وجہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم محرم ہیں [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16687]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1825، م: 1193
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1825، م: 1193
حدیث نمبر: 16688 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، مَالِكٍ ، رَوْحٌ
قال عَبْد اللَّهِ بن أحمد:، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، مِثْلَهُ، يَعْنِي عَنْ مَالِكٍ ، وَقَالَ رَوْحٌ وَجْهِهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16688]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1825، م: 1193
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1825، م: 1193
حدیث نمبر: 16689 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، أَبُو نُعَيْمٍ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ
(حديث مرفوع) قَالَ عبد الله بن أحمد: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حِمَى إِلَّا لِلَّهِ وَرَسُولِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا صعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی علاقے کو ممنوعہ علاقہ قرار دینا اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16689]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح