عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا يعني بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ ، بِلَالِ بْنِ يَحْيَى ، عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَعْرَابِيٌّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا يعني بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ ، عَنْ بِلَالِ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَعْرَابِيٌّ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَخَافُ عَلَى قُرَيْشٍ إِلَّا أَنْفُسَهَا"، قُلْتُ: مَا لَهُمْ؟، قَالَ:" أَشِحَّةٌ بَجَرَةٌ، وَإِنْ طَالَ بِكَ عُمْرٌ، لَتَنْظُرَنَّ إِلَيْهِمْ يَفْتِنُونَ النَّاسَ حَتَّى تَرَى النَّاسَ بَيْنَهُمْ كَالْغَنَمِ بَيْنَ الْحَوْضَيْنِ، إِلَى هَذَا مَرَّةً، وَإِلَى هَذَا مَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک دیہاتی صحابی سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے قریش کے متعلق خود انہی سے خطرہ ہے، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ!! کیا مطلب؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری عمر لمبی ہوئی تو تم انہیں یہاں دیکھو گے اور عام لوگوں کو ان کے درمیان ایسے پاؤ گے جیسے دو حوضوں کے درمیان بکریاں ہوں جو کبھی ادھر جاتی ہیں اور کبھی ادھر۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16625]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة عمران بن حصين
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة عمران بن حصين