بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
وقَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ : ابْنُ رَاعِي الْعَيْرِ مِنْ أَشْجَعَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 29
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 16520 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَكُونُ أَحْيَانًا فِي الصَّيْدِ، فَأُصَلِّي فِي قَمِيصِي؟، فَقَالَ:" زُرَّهُ وَلَوْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا شَوْكَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: کہ بعض اوقات میں شکار میں مشغول ہوتا ہوں، کیا میں اپنی قمیص میں ہی نماز پڑھ سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے بٹن لگالیا کر و اگرچہ کانٹا ہی ملے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16520]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 16521 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَالْعَشَاءُ فَابْدَءوا بِالْعَشَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب نماز عشاء اور رات کا کھانا جمع ہو جائیں تو پہلے کھانا کھالیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16521]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أيوب بن عتبة
حدیث نمبر: 16522 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَطَّافٌ ، مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَّافٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَكُونُ فِي الصَّيْدِ، فَأُصَلِّي وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ، قَالَ:" فَزُرُّه وَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلَّا شَوْكَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: کہ بعض اوقات میں شکار میں مشغول ہوتا ہوں، کیا میں اپنی قمیص میں ہی نماز پڑھ سکتا ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے بٹن لگالیا کر و، اگرچہ کانٹا ہی ملے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16522]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 16523 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عِكْرِمَةُ ، إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ، قَالَ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَتَضَحَّى، وَعَامَّتُنَا مُشَاةٌ فِينَا ضَعْفَةٌ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ، فَانْتَزَعَ طَلَقًا مَنْ حَقَبِهِ، فَقَيَّدَ بِهِ جَمَلَهُ رَجُلٌ شَابٌّ، ثُمَّ جَاءَ يَتَغَدَّى مَعَ الْقَوْمِ، فَلَمَّا رَأَى ضَعْفَهُمْ، وَرِقَّةَ ظَهْرِهِمْ، خَرَجَ إِلَى جَمَلِهِ، فَأَطْلَقَهُ، ثُمَّ أَنَاخَهُ، فَقَعَدَ عَلَيْهِ، فَخَرَجَ يَرْكُضُ، وَاتَبِعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ مِنْ صَحَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى نَاقَةٍ وَرْقَاءَ هِيَ أَمْثَلُ ظَهْرِ الْقَوْمِ، فَأَتْبَعَهُ، قَالَ: وَخَرَجْتُ أَعْدُو، فَأَدْرَكْتُهُ وَرَأْسُ النَّاقَةِ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ، وَكُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ النَّاقَةِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى كُنْتُ عِنْدَ وَرِكِ الْجَمَلِ، ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّى أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ، فَأَنَخْتُهُ، فَلَمَّا وَضَعَ رُكْبَتَهُ إِلَى الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي، فَأَضْرِبُ بِهِ رَأْسَهُ، فَنَدَرَ، فَجِئْتُ بِرَاحِلَتِهِ وَمَا عَلَيْهَا أَقُودُهُ، فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا، قَالَ:" مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ؟"، قَالُوا: ابْنُ الْأَكْوَعِ، قَالَ:" لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ہوازن کے خلاف جہاد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، مشرکین کا ایک جاسوس خبر لینے کے لئے آیا، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے، انہوں نے اسے بھی مہمان ظاہر کر کے کھانے کی دعوت دے دی، جب وہ آدمی کھانے سے فارغ ہوا تو اپنی سواری پر سوار ہو کر واپس روانہ ہوا تاکہ اپنے ساتھیوں کو خبردار کر سکے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے قبیلہ اسلم کا ایک آدمی بہترین قسم کی خاکستیری اونٹنی پر سوار ہو کر اس کے پیچھے لگ گیا، میں بھی دوڑتا ہوا نکلا اور اسے پکڑ لیا، اونٹنی کا سر اونٹ کے سرین کے پاس تھا اور میں اونٹنی کے سرین کے پاس، میں تھوڑا سا آگے بڑھ کر اونٹ کے سرین کے قریب ہو گیا، پھر تھوڑا سا قریب ہو کر اس کے اونٹ کی لگام پکڑ لی، میں نے اس کی سواری کو بٹھایا اور جب وہ بیٹھ گئی تو میں نے اس کی گردن اڑادی، میں اس کی سواری اور اس کے سازوسامان کو لے کر ہانکتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف روانہ ہوا راستہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آمنا سامنا ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کو کس نے قتل کیا؟ لوگوں نے کہا ابن اکوع نے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا سازوسامان بھی اسی کا ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16523]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1754
الحكم: إسناده صحيح، م: 1754
حدیث نمبر: 16524 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَقُولُ أَحَدٌ عَلَيَّ بَاطِلًا، أَوْ مَا لَمْ أَقُلْ إِلَّا تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹی بات کی نسبت کرتا ہے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16524]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 109
الحكم: إسناده صحيح، خ: 109
حدیث نمبر: 16525 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: خَرَجْنَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَيْ عَامِرُ، لَوْ أَسْمَعْتَنَا مِنْ هُنَيَّاتِكَ، قَالَ: فَنَزَلَ يَحْدُو بِهِمْ، وَيَذْكُرُ: تَالَلَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَذَكَرَ شِعْرًا غَيْرَ هَذَا، وَلَكِنْ لَمْ أَحْفَظْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ هَذَا السَّائِقُ؟" قَالُوا: عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ، فَقَالَ:" يَرْحَمُهُ اللَّهُ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، لَوْلَا مَتَّعْتَنَا بِهِ، فَلَمَّا اصَّافَّ الْقَوْمُ، قَاتَلُوهُمْ، فَأُصِيبَ عَامِرُ بْنُ الْأَكْوَعِ بِقَائِمِ سَيْفِ نَفْسِهِ، فَمَاتَ، فَلَمَّا أَمْسَوْا أَوْقَدُوا نَارًا كَثِيرَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذِهِ النَّارُ، عَلَى أَيِّ شَيْءٍ تُوقَدُ؟"، قَالُوا: عَلَى حُمُرٍ إِنْسِيَّةٍ، قَالَ:" اَهْرِيقُوا مَا فِيهَا وَكَسِّرُوهَا"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَا نُهَرِيقُ مَا فِيهَا وَنَغْسِلُهَا؟، قَالَ:" أَوْ ذَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ خیبر کی طرف روانہ ہوئے، لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا اے عامر! ہمیں حدی کے اشعار تو سناؤ، وہ اتر کر اشعار پڑھنے لگے اور یہ شعر پڑھا واللہ اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت یافتہ نہ ہوتے، اس کے علاوہ بھی انہوں نے اشعار پڑھے جو مجھے یاد نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ حدی خوان کون ہے؟ لوگوں نے بتایا عامر بن اکوع، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اس پر رحم کر ے، تو ایک آدمی نے کہا اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے ہمیں اس سے فائدہ کیوں نہ اٹھانے دیا؟ بہرحال! جب لوگوں نے لڑائی کے لئے صف بندی کی تو دوران جنگ عامر کو اپنی ہی تلوار کی دھار لگ گئی اور وہ اس سے جاں بحق ہو گئے، جب رات ہوئی تو لوگوں نے بہت زیادہ آگ جلائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ کیسی آگ ہے اور کس چیز پر جلائی گئی ہے؟ لوگوں نے بتایا پالتو گدھوں پر؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس میں جو کچھ ہے سب بہادو اور ہنڈیاں توڑ دو، ایک آدمی نے پوچھا کہ برتن میں جو کچھ ہے، اسے بہا کر برتن دوھ نہ لیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو اور کیا؟ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16525]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6331، م: 1802
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6331، م: 1802
حدیث نمبر: 16526 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ:" أَذِّنْ فِي قَوْمِكَ أَوْ فِي النَّاسِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ مَنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ بَقِيَّةَ يَوْمِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ أَكَلَ فَلْيَصُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عاشورہ کے دن قبیلہ اسلم کے ایک آدمی کو حکم دیا کہ لوگوں میں منادی کر دے کہ جس شخص نے آج کا روزہ رکھا ہوا ہو، اسے اپنا روزہ پورا کرنا چاہئے اور جس نے کچھ کھا پی لیا ہو، وہ اب کچھ نہ کھائے اور روزے کا وقت ختم ہو نے تک اسی طرح مکمل کر ے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16526]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7265، م:1135
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7265، م:1135
حدیث نمبر: 16527 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ ، سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، صَلِّ عَلَيْهَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ دَيْنًا؟"، قَالُوا: لَا، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِجَنَازَةٍ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَ:" هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟"، قَالُوا: ثَلَاثَة دَنَانِيرَ، قَالَ:" ثَلَاثُ كَيَّاتٍ"، قَالَ: فَأُتِيَ بِالثَّالِثَةِ، فَقَالَ:" هَلْ تَرَكَ عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ؟"، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" هَلْ تَرَكَ مِنْ شَيْءٍ؟"، قَالُوا: لَا، قَالَ:" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو قَتَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيَّ دَيْنُهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک جنازہ لایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے اپنے پیچھے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے کوئی ترکہ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی، پھر دوسرا جنازہ آیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے متعلق بھی یہی پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے ترکہ میں کچھ چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں تین دینار، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: جہنم کے تین داغ ہیں، پھر تیسرا جنازہ لایا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حسب سابق پوچھا کہ اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ جی ہاں! پھر پوچھا کہ ترکہ میں کچھ چھوڑا؟ لوگوں نے بتایا نہیں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر اپنے ساتھی کی نماز جنازہ خود ہی پڑھ لو، اس پر ایک انصاری صحابی جن کا نام ابوقتادہ تھا نے عرض کیا: یا رسول اللہ!! اس کا قرض میرے ذمے ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی بھی نماز جنازہ پڑھا دی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16527]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2295
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2295
حدیث نمبر: 16528 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَسْلَمَ وَهُمْ يَتَنَاضَلُونَ فِي السُّوقِ، فَقَالَ:" ارْمُوا يَا بَنِي إِسْمَاعِيلَ، فَإِنَّ أَبَاكُمْ كَانَ رَامِيًا، ارْمُوا وَأَنَا مَعَ بَنِي فُلَانٍ" لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ فَأَمْسَكُوا أَيْدِيَهُمْ، فَقَالَ:" ارْمُوا"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَرْمِي وَأَنْتَ مَعَ بَنِي فُلَانٍ؟، قَالَ:" ارْمُوا وَأَنَا مَعَكُمْ كُلِّكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبیلہ اسلم کے ایک گروہ کے پاس سے گزرے جو کہ بازار میں تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے بنی اسماعیل! تیر اندازی کرتے رہو کیونکہ تمہارے جد امجد (سیدنا اسماعیل علیہ السلام) بھی تیر انداز تھے، تیرا اندازی کر و اور میں بھی فلاں گروہ کے ساتھ شریک ہو جاتا ہوں، اس پر دوسرے فریق نے اپنے ہاتھ کھینچ لئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیر پھینکو، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ!! ہم کیسے تیر پھینکیں جبکہ ان کے ساتھ تو آپ بھی ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ تیر پھینکو میں تم سب کے ساتھ ہوں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16528]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ:3507
الحكم: إسناده صحيح، خ:3507