بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِیَّة حَدِیثِ اَبِی بردَةَ بنِ نِیَار
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 7
حدیث نمبر: 16485 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وحُجَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَرَاءِ ، أَبِي بُرْدَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وحُجَيْنٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّه، إِنَّا عَجَّلْنَا شَاةَ لَحْمٍ لَنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَقَبْلَ الصَّلَاةِ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" تِلْكَ شَاةُ لَحْمٍ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ عِنْدَنَا عَنَاقًا جَذَعَةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ:" تُجْزِئُ عَنْهُ، وَلَا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم نے اپنی بکری کو بہت جلدی ذبح کر لیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا نماز عید سے بھی پہلے؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو فرمایا کہ یہ تو گوشت والی بکری ہوئی، عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہمارے پاس ایک چھ ماہ کا بچھ ہے جو پورے سال کے جانور سے زیادہ ہماری نگاہوں میں عمدہ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری طرف سے کافی ہو جائے گا لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے وہ کفایت نہیں کر سکے گا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16485]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16486 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي بُرْدَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16486]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6848 ، م: 1708
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6848 ، م: 1708
حدیث نمبر: 16487 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٍو ، بُكَيْرًا ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، أَبَاهُ ، أَبَا بُرْدَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ إِذْ جَاءَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ سُلَيْمَانَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا سُلَيْمَانُ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَجْلِدُوا فَوْقَ عَشْرَةَ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قال عبد الله: قال أبى: كَذَا قَالَ لَنَا فِيهِ، قَالَ أَبِي: وَأَنَا أَذْهَبُ إِلَيْهِ يَعْنِي الْحَدِيثَ، يَعْنِي حَدِيثَ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16487]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6850، م: 1708
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6850، م: 1708
حدیث نمبر: 16488 مسند احمد
سُرَيْجٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، بُكَيْرٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَاهُ ، أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ الْأَنْصَارِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ الْأَنْصَارِيَّ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَجْلِدُوا فَوْقَ عَشْرَةَ أَسْوَاطٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16488]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6850 ، م: 1708
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6850 ، م: 1708
حدیث نمبر: 16489 مسند احمد
سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، شَرِيكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، جُمَيْعٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَمْرٍو الْكَلْبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى ، عَنْ جُمَيْعٍ ، أَوْ أَبِي جُمَيْعٍ، عَنْ خَالِهِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى طَعَامًا، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِيهِ، فَرَأَى غَيْرَ ذَلِكَ، فَقَالَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ غَشَّنَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبردہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کے غلے میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالا تو اس میں دھوکہ نظر آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو ہمیں دھوکہ دے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16489]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جميع بن عمير ، وشريك سيئ الحفظ
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف جميع بن عمير ، وشريك سيئ الحفظ
حدیث نمبر: 16490 مسند احمد
يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، قَالَ: شَهِدْتُ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَخَالَفَتْ امْرَأَتِي حَيْثُ غَدَوْتُ إِلَى الصَّلَاةِ إِلَى أُضْحِيَّتِي فَذَبَحَتْهَا، وَصَنَعَتْ مِنْهَا طَعَامًا، قَالَ: فَلَمَّا صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَانْصَرَفْتُ إِلَيْهَا، جَاءَتْنِي بِطَعَامٍ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ، فَقُلْتُ: أَنَّى هَذَا؟، قَالَتْ: أُضْحِيَّتُكَ ذَبَحْنَاهَا، وَصَنَعْنَا لَكَ مِنْهَا طَعَامًا لِتَغَدَّى إِذَا جِئْتَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ هَذَا لَا يَنْبَغِي، قَالَ: فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ:" لَيْسَتْ بِشَيْءٍ، مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ نَفْرُغَ مِنْ نُسُكِنَا فَلَيْسَ بِشَيْءٍ، فَضَحِّ"، قَالَ: فَالْتَمَسْتُ مُسِنَّةً فَلَمْ أَجِدْهَا، قَالَ: فَجِئْتُهُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ الْتَمَسْتُ مُسِنَّةً فَمَا وَجَدْتُهَا، قَالَ:" فَالْتَمِسْ جَذَعًا مِنَ الضَّأْنِ، فَضَحِّ بِهِ"، قَالَ: فَرَخَّصَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَذَعِ مِنَ الضَّأْنِ، فَضَحَّى بِهِ حَينُ لَمْ يَجِدَ الْمُسِنَّةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے عید کی نماز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ پڑھی، پیچھے سے میری بیوی نے قربانی کا جانور پکڑ کر اسے ذبح کر لیا اور اس کا کھانا تیار کر لیا، نماز سے فارغ ہو کر جب میں گھر پہنچا تو وہ کھانے کی چیزیں لے کر آئی، میں نے اس سے پوچھا: یہ کہاں سے آیا؟ اس نے کہا ہم نے قربانی کا جانور ذبح کر کے آپ کے لئے کھانا تیار کر لیا تاکہ واپس آ کر آپ ناشتہ کر سکیں، میں نے اس سے کہا کہ مجھے خطرہ ہے کہ اس طرح کرنا صحیح نہ ہو گا، چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا واقعہ بتایا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قربانی نہیں ہوئی، جو شخص ہماری نماز سے فارغ ہو نے سے قبل ہی جانور ذبح کر لے اس کی قربانی نہیں ہوئی، لہذا تم دوبارہ قربانی کر و، میں نے جب سال بھر کا جانور تلاش کیا تو وہ مجھے ملا نہیں، لہذا میں نے دوبارہ حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! واللہ میں نے مسنہ تلاش کیا ہے لیکن مجھے مل نہیں رہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ تلاش کر کے اسی کی قربانی کر لو، یا یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ان کے لئے رخصت تھی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16490]
حکم دارالسلام
إسناده حسن إن صح سماع بشير بن يسار من أبى بردة
الحكم: إسناده حسن إن صح سماع بشير بن يسار من أبى بردة
حدیث نمبر: 16491 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ الْمُقْرِئُ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْمُقْرِئُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يُجْلَدُ فَوْقَ عَشْرَةِ أَسْوَاطٍ فِيمَا دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، قال عبدُ الله: قال أبي: كَذَا، قَالَ: لَنَا، لَمْ يَقُلْ: عَنْ أَبِيهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوبردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حدود اللہ کے علاوہ کسی سزا میں دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16491]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6848، م: 1708
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6848، م: 1708