بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث عَبدِ اللَّهِ بنِ زَیدِ بنِ عَاصِم المَازِنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه وَكَانَت ...
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 44
صفحہ 3 از 3
حدیث نمبر: 16470 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَا أَفَاءَ، قَالَ: قَسَمَ فِي النَّاسِ فِي الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ، وَلَمْ يَقْسِمْ وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَكَأَنَّهُمْ وَجَدُوا إِذْ لَمْ يُصِبْهُمْ مَا أَصَابَ النَّاسَ، فَخَطَبَهُمْ، فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَمْ أَجِدْكُمْ ضُلَّالًا، فَهَدَاكُمْ اللَّهُ بِي، وَكُنْتُمْ مُتَفَرِّقِينَ، فَجَمَعَكُمْ اللَّهُ بِي، وَعَالَةً فَأَغْنَاكُمْ اللَّهُ بِي؟"، قَالَ: كُلَّمَا قَالَ شَيْئًا، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، قَالَ:" مَا يَمْنَعُكُمْ أَنْ تُجِيبُونِي؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمَنُّ، قَالَ:" لَوْ شِئْتُمْ لَقُلْتُمْ جِئْتَنَا كَذَا وَكَذَا، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالشَّاةِ وَالْبَعِيرِ، وَتَذْهَبُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى رِحَالِكُمْ، لَوْلَا الْهِجْرَةُ، لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْأَنْصَارِ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وَشِعْبَهُمْ، الْأَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ، وَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب مال غنیمت عطاء فرمایا: تو آپ نے اسے ان لوگوں میں تقسیم کر دیا جو مؤلفۃ القلوب میں سے تھے اور انصار کو اس میں سے کچھ بھی نہیں دیا، غالباً اس چیز کو انصار نے محسوس کیا کہ انہیں وہ نہیں ملا جو دوسرے لوگوں کو مل گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ان کے سامنے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے گروہ انصار! کیا میں نے تمہیں گم کر دہ راہ نہیں پایا کہ اللہ نے میرے ذریعے تمہیں غنی کر دیا؟ ان تمام باتوں کے جواب میں انصار صرف یہی کہتے رہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا بہت بڑا احسان ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا بات ہے، تم کوئی جواب نہیں دیتے؟ انہوں نے پھر یہی کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کا بہت بڑا احسان ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہتے تو یوں بھی کہہ سکتے تھے کہ آپ ہمارے پاس اس اس حال میں آئے تھے وغیرہ، کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ لوگ بکری اور اونٹ لے جائیں اور تم اپنے خیموں میں پیغمبر اللہ کو لے جاؤ، اگر ہجرت نہ ہو تی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا، اگر لوگ کسی ایک راستے پر چل رہے ہوں تو میں انصار کے راستے پر چلوں گا، انصار میرے جسم کا لگا ہوا کپڑا ہیں اور باقی لوگ اوپر کا کپڑا ہیں اور تم میرے بعد ترجیحات دیکھو گے، سو اس وقت تم صبر کرنا یہاں تک کہ مجھ سے حوض پر آملو۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16470]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4330، م:1061
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4330، م:1061
حدیث نمبر: 16471 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ زَمَنُ الْحَرَّةِ أَتَاهُ آتٍ، فَقَالَ: هَذَا ابْنُ حَنْظَلَةَ، وَقَالَ عَفَّانُ: مَرَّةً هَذَاكَ ابْنُ حَنْظَلَةَ يُبَايِعُ النَّاسَ. قَالَ: عَلَى أَيِّ شَيْءٍ يُبَايِعُهُمْ؟، قَالَ عَلَى: الْمَوْتِ، قَالَ: لَا أُبَايِعُ عَلَى هَذَا أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یحییٰ کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حرہ کے موقع پر سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کہا آئیے! ابن حنظلہ کے پاس چلیں جو لوگوں سے بیعت لے رہا ہے، انہوں نے پوچھا کہ وہ کس چیز پر بیعت لے رہا ہے؟ بتایا گیا کہ موت پر، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد میں کسی شخص سے اس پر بیعت نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16471]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2959، م:1861
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2959، م:1861
حدیث نمبر: 16472 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيَّ الطَّحَّانَ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيَّ الطَّحَّانَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مِنْ كَفٍّ وَاحِدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ہی ہتھیلی سے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16472]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 185، م:235
الحكم: إسناده صحيح، خ: 185، م:235
حدیث نمبر: 16473 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمُصَلَّى يَسْتَسْقِي وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ سَوْدَاءُ، فَأَخَذَ بِأَسْفَلِهَا لِيَجْعَلَهَا أَعْلَاهَا فَثَقُلَتْ عَلَيْهِ، فَقَلَبَهَا عَلَى عَاتِقِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز استسقاء پڑھائی آپ نے اس وقت ایک سیاہ چادر اوڑھ رکھی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے نچلے حصے کو اوپر کی طرف کرنا چاہا لیکن مشکل ہو گیا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دائیں جانب کو بائیں طرف اور بائیں جانب کو دائیں طرف کر لیا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16473]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، خ: 1005، م: 894
الحكم: إسناده حسن، خ: 1005، م: 894