بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث سَلمَانَ بنِ عَامِر رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 16225 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، هِشَامٌ ، حَفْصَةَ ، الرَّبَابِ الضَّبِّيَّةِ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ الرَّبَابِ الضَّبِّيَّةِ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ، فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ" قَالَ هِشَامٌ: وَحَدَّثَنِي عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ أَنَّ حَفْصَةَ رَفَعَتْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان بن عامر سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کر ے تو اسے چاہیے کہ کھجور سے روزہ افطار کر ے اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16225]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرباب الضبية
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرباب الضبية
حدیث نمبر: 16226 مسند احمد
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَاصِمٍ ، حَفْصَةَ ، الرَّبَابِ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ الرَّبَابِ ، عَنْ عَمِّهَا سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ طَهُورٌ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) " وَمَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى، وَأَرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَالصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الْقَرَابَةِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان بن عامر سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کر ے تو اسے چاہیے کہ کھجور سے روزہ افطار کر ے اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کر و اس سے آلائیشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف جانور قربان کیا کر و۔ اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16226]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، دون قوله: «فليفطر على تمر فإنه طهور» ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرباب
الحكم: حديث صحيح، دون قوله: «فليفطر على تمر فإنه طهور» ، وهذا إسناد ضعيف لجهالة الرباب
حدیث نمبر: 16227 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، الرَّبَابِ بِنْتِ صُلَيْعٍ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنِ الرَّبَابِ بِنْتِ صُلَيْعٍ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الْقَرَابَةِ اثْنَتَانِ صِلَةٌ وَصَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسکین پر خرچ کرنا اکہرا صدقہ ہے اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے اور ایک صدقے کا اور دوسراصلہ رحمی کا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16227]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناده ضعيف لجهالة الرباب بنت صليع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناده ضعيف لجهالة الرباب بنت صليع
حدیث نمبر: 16228 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، حَفْصَةَ ، الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ ابْنَةِ صُلَيْعٍ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ الرَّبَابِ أُمِّ الرَّائِحِ ابْنَةِ صُلَيْعٍ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ طَهُورٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان بن عامر سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کر ے تو اسے چاہیے کہ کھجور سے روزہ افطار کر ے اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16228]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرباب
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرباب
حدیث نمبر: 16229 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، وَيَزِيدُ ، هِشَامٌ ، حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامٌ . وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؛ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کر و اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16229]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، حفصة بنت سيرين لم تسمع من سلمان بن عامر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، حفصة بنت سيرين لم تسمع من سلمان بن عامر
حدیث نمبر: 16230 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، يُونُسُ ، ابْنِ سِيرِينَ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کر و اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16230]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5472
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5472
حدیث نمبر: 16231 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٌ ، حَفْصَةَ ، الرَّبَابِ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ الرَّبَابِ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ طَهُورٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان بن عامر سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کر ے تو اسے چاہیے کہ کھجور سے روزہ افطار کر ے اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16231]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرباب
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرباب
حدیث نمبر: 16232 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، هِشَامٌ ، حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ ، الرَّبَابِ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ابْنَةِ سِيرِينَ ، عَنِ الرَّبَابِ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ، فَلْيُفْطِرْ بِمَاءٍ فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ:" مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ:" الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صِلَةٌ وَصَدَقَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان بن عامر سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کر ے تو اسے چاہیے کہ کھجور سے روزہ افطار کر ے اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ اور فرمایا کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کر و اور اس سے آلائشیں دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔ اور فرمایا: مسکین پر صدقہ کرنے کا اکہرا ثواب ہے اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16232]
حکم دارالسلام
16232
الحكم: 16232
حدیث نمبر: 16233 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، هِشَامٌ ، حَفْصَةَ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَالصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسکین پر خرچ کرنا اکہرا صدقہ ہے اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے اور ایک صدقے کا اور دوسراصلہ رحمی کا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16233]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، حفصة لم تسمع من سلمان بن عامر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، حفصة لم تسمع من سلمان بن عامر
حدیث نمبر: 16234 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، حَفْصَةُ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:" صَدَقَتُكَ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَهِيَ عَلَى ذِي الرَّحِمِ ثِنْتَانِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کر و اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کرو۔ اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسکین پر صدقہ کرنے کا اکہرا ثواب ہے اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے ایک صدقے کا اور دوسرا صلہ رحمی کا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16234]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 16235 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، أُمِّ الرَّائِحِ ابْنَةِ صُلَيْعٍ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ الرَّائِحِ ابْنَةِ صُلَيْعٍ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّهَا عَلَى ذِي الرَّحِمِ اثْنَتَانِ إِنَّهَا صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مسکین پر خرچ کرنا اکہرا صدقہ ہے اور قریبی رشتہ داروں پر صدقہ کرنے کا ثواب دہرا ہے اور ایک صدقے کا اور دوسراصلہ رحمی کا۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16235]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة الرباب
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الجهالة الرباب
حدیث نمبر: 16236 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، أَيُّوبُ ، وحَبِيبٌ ، وَيُونُسُ ، وَقَتَادَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، وحَبِيبٌ ، وَيُونُسُ ، وَقَتَادَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کر و اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16236]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5472
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5472
حدیث نمبر: 16237 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٌ ، حَفْصَةَ ، الرَّبَابِ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنِ الرَّبَابِ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَفْطَرَ أَحَدُكُمْ، فَلْيُفْطِرْ عَلَى تَمْرٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا، فَلْيُفْطِرْ عَلَى مَاءٍ، فَإِنَّهُ لَهُ طَهُورٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ہمارے نسخے میں یہاں صرف حدثنا لکھا ہوا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16237]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرباب
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرباب
حدیث نمبر: 16238 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، وَهِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، سَلْمَانَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، لَمْ يَذْكُرْ أَيُّوبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَهِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ سَلْمَانَ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" عَنِ الْغُلَامِ عَقِيقَةٌ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کر و اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16238]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5472
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5472
حدیث نمبر: 16239 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَيُّوبَ ، وَقَتَادَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، وَقَتَادَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" فِي الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ دَمًا، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کر و اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16239]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5472
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5472
حدیث نمبر: 16240 مسند احمد
عَبْدُ الوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، ابْنِ عَوْنٍ ، وَسَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، وَسَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى" قَالَ: وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ يَقُولُ: إِنْ لَمْ تَكُنْ إِمَاطَةُ الْأَذَى حَلْقَ الرَّأْسِ، فَلَا أَدْرِي مَا هُوَ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کر و اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5472
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5472
حدیث نمبر: 16241 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، ابْنِ سِيرِينَ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَعَ الْغُلَامِ عَقِيقَتُهُ، فَأَهْرِيقُوا عَنْهُ الدَّمَ، وَأَمِيطُوا عَنْهُ الْأَذَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لڑکے کی پیدائش پر عقیقہ کیا کر و اس سے آلائشیں وغیرہ دور کر کے اس کی طرف سے جانور قربان کیا کر و۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16241]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5472
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5472
حدیث نمبر: 16242 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَاصِمٍ ، حَفْصَةَ ، سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ عَامِرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ وَجَدَ تَمْرًا، فَلْيُفْطِرْ عَلَيْهِ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ تَمْرًا، فَلْيُفْطِرْ عَلَى الْمَاءِ، فَإِنَّ الْمَاءَ طَهُورٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سلمان بن عامر سے موقوفاً مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کر ے تو اسے چاہیے کہ کھجور سے روزہ افطار کر ے اگر کھجور نہ ملے تو پھر پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاکیزگی بخش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16242]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، حفصة لم تسمع من سلمان
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، حفصة لم تسمع من سلمان