بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِیث رِفَاعَةَ بنِ عَرَابَةَ الجهَنِیِّ رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 16215 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَيْدٍ فَجَعَلَ رِجَالٌ مِنَّا يَسْتَأْذِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ، فَيَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" مَا بَالُ رِجَالٍ يَكُونُ شِقُّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْغَضَ إِلَيْهِمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ" فَلَمْ نَرَ عِنْدَ ذَلِكَ مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَقَالَ حِينَئِذٍ:" أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صِدْقًا مِنْ قَلْبِهِ، ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ" قَالَ:" وَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَذُرِّيَّاتِكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ" وَقَالَ:" إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ قَالَ ثُلُثَا اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي أَحَدًا غَيْرِي، مَنْ ذَا يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ، مَنْ الَّذِي يَدْعُونِي أَسْتَجِيبُ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي أُعْطِيهِ حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا رفاعہ جہنی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکر مہ سے واپس آرہے تھے کہ مقام کدید میں پہنچ کر کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی پھر کھڑے ہو کر اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ درخت وہ حصہ جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہے انہیں دوسرے حصے سے زیادہ اس سے نفرت ہے اس وقت ہم نے سب لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا پھر ایک آدمی کہنے لگا کہ اب کے بعد جو شخص آپ سے جانے کی اجازت مانگے گا وہ بیوقوف ہی ہو گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے الحمدللہ کہا اور فرمایا: اب میں گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہو نے کی گواہی دیتا ہو جو صدق قلب اور درست نیت کے ساتھ ہو مر جائے وہ جنت میں داخل ہو گا اور میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جنت میں میری امت کے ستر ہزار ایسے آدمیوں کو داخل کر ے گا جن کا کوئی حساب کتاب اور انہیں کوئی عذاب نہ ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک تم اور تمہارے آباؤ اجداد اور بیوی بچوں میں سے جو اس کے قابل ہوں گے جنت میں داخل نہ ہو جائیں۔ اور فرمایا کہ جب ایک نصف یا دو تہائی رات بیت جاتی ہے تو اللہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میں اپنے بندوں کے متعلق کسی دوسرے سے نہیں پوچھوں گا کون ہے جو مجھ سے معافی مانگے کہ میں اسے معاف کر دو کون ہے جو مجھ سے دعا کر ے اور میں اس کی دعا قبول کر و اور کون ہے جو مجھ سے سوال کر ے اور میں اسے عطا کر وں یہ اعلان صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔ سیدنا رفاعہ جہنی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکر مہ سے واپس آرہے تھے کہ مقام کدیدی پہنچ کر کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے پھر روای نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا سیدنا ابوبکر نے فرمایا: اب کے بعد جو شخص آپ سے جانے کی اجازت مانگے گا وہ بیوقوف ہو گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے الحمدللہ کہا اور فرمایا کہ اب میں گواہی دیتا ہوں کہ جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جو صدق قلب اور درست نیت کے ساتھ ہو مر جائے وہ جنت میں داخل ہو گا پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16215]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16216 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَسْتَأْذِنُونَهُ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ بَعْدَ هَذِهِ لَسَفِيهٌ فِي نَفْسِي، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِدَ اللَّهَ، وَقَالَ: خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ:" أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ" وَكَانَ إِذَا حَلَفَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16216]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16217 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، شَيْبَانُ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ ، رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ: بِعَرَفَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 16218 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، رِفَاعَةَ الْجُهَنِيّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، أَنَّ رِفَاعَةَ الْجُهَنِيّ حَدَّثَهُ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْكَدِيدِ أَوْ قَالَ: بِقُدَيْدٍ جَعَلَ رِجَالٌ يَسْتَأْذِنُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ، فَيُؤْذَنُ لَهُمْ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ خَيْرًا، وَقَالَ:" أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ لَا يَمُوتُ عَبْدٌ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ، ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سُلِكَ فِي الْجَنَّةِ"، ثُمَّ قَالَ:" وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيِّكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ"، وَقَالَ:" إِذَا مَضَى نِصْفُ اللَّيْلِ أَوْ ثُلُثُ اللَّيْلِ يَنْزِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ: لَا أَسْأَلُ عَنْ عِبَادِي أَحَدًا غَيْرِي، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْتَغْفِرُنِي أَغْفِرُ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَدْعُونِي، فَأَسْتَجِيبَ لَهُ، مَنْ ذَا الَّذِي يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ، حَتَّى يَنْفَجِرَ الصُّبْحُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا رفاعہ جہنی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ مکر مہ سے واپس آرہے تھے کہ مقام کدید میں پہنچ کر کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس جانے کی اجازت مانگنے لگے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دیدی پھر کھڑے ہو کر اللہ کی حمدوثناء بیان کی اور فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ درخت وہ حصہ جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہے انہیں دوسرے حصے سے زیادہ اس سے نفرت ہے اس وقت ہم نے سب لوگوں کو روتے ہوئے دیکھا پھر ایک آدمی کہنے لگا کہ اب کے بعد جو شخص آپ سے جانے کی اجازت مانگے گا وہ بیوقوف ہی ہو گا اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے الحمدللہ کہا اور فرمایا: اب میں گواہی دیتا ہوں کہ کہ جو شخص لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہو نے کی گواہی دیتا ہوا جو صدق قلب اور درست نیت کے ساتھ ہو مر جائے وہ جنت میں داخل ہو گا اور میرے رب نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جنت میں میری امت کے ستر ہزار ایسے آدمیوں کو داخل کر ے گا جن کا کوئی حساب کتاب اور انہیں کوئی عذاب نہ ہو گا اور مجھے امید ہے کہ وہ اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوں گے جب تک تم اور تمہارے آباؤ اجداد اور بیوی بچوں میں سے جو اس کے قابل ہوں گے جنت میں داخل نہ ہو جائیں۔ اور فرمایا کہ جب ایک نصف یا دو تہائی رات بیت جاتی ہے تو اللہ آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور اعلان کرتا ہے کہ میں اپنے بندوں کے متعلق کسی دوسرے سے نہیں پوچھوں گا کون ہے جو مجھ سے معافی مانگے کہ میں اسے معاف کر دو کون ہے جو مجھ سے دعا کر ے اور میں اس کی دعا قبول کر و اور کون ہے جو مجھ سے سوال کر ے اور میں اسے عطا کر وں یہ اعلان صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَدِ المَدَنِیِّینَ رَضِیَ اللَّه عَنهم اَجمَعِینَ/حدیث: 16218]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح