بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِيَّةُ حَدِيثِ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 16065 مسند احمد
هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، أَبِي ، خُرَيْمَ بْنَ فَاتِكٍ الْأَسَدِيَّ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ مَيْسَرَةَ بْنِ حَلْبَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي , سَمِعَ خُرَيْمَ بْنَ فَاتِكٍ الْأَسَدِيَّ , يَقُولُ:" أَهْلُ الشَّامِ سَوْطُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ يَنْتَقِمُ بِهِمْ مِمَّنْ يَشَاءُ كَيْفَ يَشَاءُ وَحَرَامٌ عَلَى مُنَافِقِيهِمْ أَنْ يَظْهَرُوا عَلَى مُؤْمِنِيهِمْ وَلَنْ يَمُوتُوا إِلَّا هَمًّا , أَوْ غَيْظًا , أَوْ حُزْنًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا خریم بن فاتک کہتے ہیں کہ اہل شام زمین میں خدائی کوڑا ہیں اللہ ان کے ذریعے جس سے چاہتا ہے انتقام لے لیتا ہے اور ان کے منافقین کے لئے ان کے مومنین پر غالب آن احرام کر دیا گیا ہے وہ جب بھی مریں گے تو غم غصے کی اور پریشانی کی حالت ہی میں مریں گے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16065]
حکم دارالسلام
أثر ضعيف، أيوب بن ميسرة له ماينكر
الحكم: أثر ضعيف، أيوب بن ميسرة له ماينكر
حدیث نمبر: 16066 مسند احمد
هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، طَيَّافٌ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، ابْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ بُكَيْلٍ ، شُرَاحْيلَ ، لِابْنِ عُمَرَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا طَيَّافٌ الْإِسْكَنْدَرَانِيُّ ، عَنِ ابْنِ شَرَاحِيلَ بْنِ بُكَيْلٍ ، عَنِ أَبِيهِ شُرَاحْيلَ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ :" إِنَّ لِي أَرْحَامًا بِمِصْرَ يَتَّخِذُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَعْنَابِ , قَالَ: وَفَعَلَ ذَلِكَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ , قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَ: لَا تَكُونُوا بِمَنْزِلَةِ الْيَهُودِ، حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ، فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا , قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ أَخَذَ عُنْقُودًا، فَعَصَرَهُ، فَشَرِبَهُ؟ قَالَ: لَا بَأْسَ , فَلَمَّا نَزَلْتُ، قَالَ: مَا حَلَّ شُرْبُهُ حَلَّ بَيْعُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شراحیل کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر سے پوچھا کہ میرے کچھ رشتہ دار جو مصر میں رہتے ہیں انگوروں کی شراب بناتے ہیں انہوں نے حیرانگی سے پوچھا کہ کیا مسلمان بھی یہ کام کرتا ہے میں نے کہا جی ہاں وہ فرمانے لگے کہ تم یہو دیوں کی طرح نہ ہو جاؤ اور ان پر چربی حرام ہوئی تھی تو وہ اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے میں نے ان سے پوچھا کہ اس شخص کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے جو انگوروں کا خوشہ پکڑے اور اسے نچوڑے اور اسی وقت اس کا عرق پی جائے انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی حرج نہیں ہے جب میں اترنے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ جس چیز کا پینا حلال ہے اس کی تجارت بھی حلال ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16066]
حکم دارالسلام
أثر حسن، طياف الإسكندراني وشيخه مجهولان، وقد توبعا
الحكم: أثر حسن، طياف الإسكندراني وشيخه مجهولان، وقد توبعا
حدیث نمبر: 16067 مسند احمد
هَيْثَمٌ ، عَبْدُ رَبُه بْنُ مَيْمُونٍ الْأَشْعَرِيُّ ، الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، مَكْحُولٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبُه بْنُ مَيْمُونٍ الْأَشْعَرِيُّ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ مَكْحُولٍ رَفَعَهُ، قَالَ:" أَيُّمَا شَجَرَةٍ أَظَلَّتْ عَلَى قَوْمٍ، فَصَاحِبُهُ بِالْخِيَارِ مِنْ قَطْعِ مَا أَظَلَّ أَوْ أَكْلِ ثَمَرِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مکحول کہتے ہیں جو درخت کسی قوم پر سایہ کرتا ہواس کے مالک کو اختیار ہے کہ اس کا سایہ ختم کر دے یا اس کا پھل کھالے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16067]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإرساله، مكحول تابعي لم يدرك النبى صلى الله عليه و آله وسلم
الحكم: إسناده ضعيف لإرساله، مكحول تابعي لم يدرك النبى صلى الله عليه وسلم