بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَاقِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 16028 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ امْرَأَةً بِبَصَرِهِ، فَقُلْتُ: تَنْظُرُ إِلَيْهَا وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِذَا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةً لِامْرَأَةٍ، فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سہل بن ابی حثمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا محمد بن مسلمہ کو دیکھا وہ ایک عورت کو دیکھ رہے ہیں میں نے ان سے کہا کہ آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ہیں پھر بھی ایک نامحرم کو دیکھتے ہیں انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ کسی شخص کے دل میں کسی عورت کے پاس پیغام نکاح بھیجنے کا خیال پیدا کر یں تو اسے دیکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16028]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن سليمان، وحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال محمد بن سليمان، وحجاج بن أرطاة مدلس، وقد عنعنه
حدیث نمبر: 16029 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: مَرَرْتُ بِالرَّبَذَةِ، فَإِذَا فُسْطَاطٌ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَقِيلَ: لِمُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ ، فَاسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقُلْتُ: رَحِمَكَ اللَّهُ، إِنَّكَ مِنْ هَذَا الْأَمْرِ بِمَكَانٍ، فَلَوْ خَرَجْتَ إِلَى النَّاسِ فَأَمَرْتَ وَنَهَيْتَ , فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ وَاخْتِلَافٌ، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ، فَأْتِ بِسَيْفِكَ أُحُدًا، فَاضْرِبْ بِهِ عُرْضَهُ، وَاكْسِرْ نَبْلَكَ، وَاقْطَعْ وَتَرَكَ، وَاجْلِسْ فِي بَيْتِكَ" فَقَدْ كَانَ ذَلِكَ. وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً:" فَاضْرِبْ بِهِ حَتَّى تَقْطَعَهُ، ثُمَّ اجْلِسْ فِي بَيْتِكَ حَتَّى تَأْتِيَكَ يَدٌ خَاطِئَةٌ، أَوْ يُعَافِيَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" , فَقَدْ كَانَ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ. ثُمَّ اسْتَنْزَلَ سَيْفًا كَانَ مُعَلَّقًا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ، فَاخْتَرَطَهُ، فَإِذَا سَيْفٌ مِنْ خَشَبٍ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ مَا أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاتَّخَذْتُ هَذَا أُرْهِبُ بِهِ النَّاسَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوبردہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مقام ربذہ سے گزر رہا تھا کہ وہاں ایک خیمہ دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ خیمہ کسی کا ہے لوگوں نے بتایا کہ محمد بن مسلمہ کا ہے میں نے وہاں پہنچ کر ان سے اجازت طلب کی اور اندرچلا گیا اور ان سے عرض کیا: کہ اللہ آپ پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے آپ اس معاملے میں کٹ کر اس جگہ بیٹھے ہوئے ہیں آپ لوگوں میں نکل کر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کر یں انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عنقریب فتنے، تفرقے اور اختلافات ہوں گے جب ایسا ہو نے لگے تو تم اپنی تلوار لے کر احد پہاڑ کے پاس جانا اور اسے چوڑائی سے لے کر پہاڑ پردے مارنا اس کا پھل توڑ دینا اپنی کمان توڑ دینا اور اپنے گھر بیٹھ جانا اور اب ایسا ہو گیا ہے اور میں نے وہی کام کیا ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ کو حکم دیا تھا پھر انہوں نے ایک تلوار اتاری جو خیمے کے ستون کے ساتھ لٹکی ہوئی تھی انہوں نے اسے بےنیام کیا تو وہ لکڑی کی تلوار تھی وہ کہنے لگے کہ میں نے کیا تو ہے جس کا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا اور یہ میں نے اس لئے بنوائی ہے کہ لوگوں کو اس سے ڈرا سکوں پھر میرے پاس بھی تلوار ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16029]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 16030 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، قَالَ: مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ، فَإِذَا فُسْطَاطٌ مَضْرُوبٌ، فَذَكَرَهُ، قَالَ:" إِنَّهُ سَتَكُونُ فِتْنَةٌ وَفُرْقَةٌ، فَاضْرِبْ بِسَيْفِكَ عُرْضَ أُحُدٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16030]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه
حدیث نمبر: 16031 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , قَالَ: مَرَرْنَا بِالرَّبَذَةِ، فَإِذَا فُسْطَاطٌ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف كسابقه
الحكم: إسناده ضعيف كسابقه