بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 16000 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، عَنْ أَبِي حَبَّةَ الْبَدْرِيِّ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لَمْ يَكُنْ , قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَ هَذِهِ السُّورَةَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أُبَيُّ، إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ هَذِهِ السُّورَةَ" , فَبَكَى، وَقَالَ: ذُكِرْتُ ثَمَّةَ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوحبہ بدری سے مروی ہے کہ جب سورت بینہ نازل ہوئی تو سیدنا جبرائیل نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے محمد آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ یہ سورت ابی بن کعب کو پڑھ کر سنائیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا ابی سے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ تمہیں یہ سورت پڑھ کر سناؤ اس پر سیدنا ابی بن کعب روپڑے اور کہنے لگے کہ میرا ذکر وہاں ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16000]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 16001 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، أَبَا حَبَّةَ الْبَدْرِيَّ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَبَّةَ الْبَدْرِيَّ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لَمْ يَكُنْ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى آخِرِهَا، قَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُقْرِئَهَا أُبَيًّا , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيٍّ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَمَرَنِي أَنْ أُقْرِئَكَ هَذِهِ السُّورَةَ" , قَالَ أُبَيٌّ: وَقَدْ ذُكِرْتُ ثَمَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ" , قَالَ: فَبَكَى أُبَيٌّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوحبہ بدری سے مروی ہے کہ جب سورت بینہ نازل ہوئی تو سیدنا جبرائیل نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اے محمد آپ کا رب آپ کو حکم دیتا ہے کہ یہ سورت ابی بن کعب کو پڑھ کر سنائیں چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا ابی سے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ تمہیں یہ سورت پڑھ کر سناؤ اس پر سیدنا ابی بن کعب روپڑے اور کہنے لگے کہ میرا ذکر وہاں ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 16001]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد