بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ طَارِقِ بْنِ أَشْيَمَ الْأَشْجَعِيِّ وَالِدِ أَبِي مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 15875 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ لِقَوْمٍ:" مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ تَعَالَى، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِهِ، حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ". حَدَّثَنَا بِهِ يَزِيدُ بِوَاسِطٍ وَبَغْدَادَ، قَالَ: سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طارق سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی قوم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے اور دیگر معبودان باطلہ کا انکار کرتا ہے اس کی جان مال محفوظ اور قابل احترام ہو جاتے ہیں اور اس کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15875]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 23
الحكم: إسناده صحيح، م: 23
حدیث نمبر: 15876 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِبَغْدَادَ، أَخبرنا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ , عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بِحَسْبِ أَصْحَابِي الْقَتْلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طارق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے لئے شہادت کافی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15876]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15877 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا أَتَاهُ الْإِنْسَانُ يَقُولُ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي؟ قَالَ:" قُلْ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَارْزُقْنِي" , وَقَبَضَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ:" فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دُنْيَاكَ وَآخِرَتَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طارق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کوئی شخص آ کر عرض کرتا کہ یا رسول اللہ! جب میں اپنے پروردگار سے دعا کر وں تو کیا کہا کر وں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرماتے ہوئے یہ کہا کہ اے اللہ مجھے معاف فرما مجھ پر رحم فرما مجھے ہدایت عطا فرما اور مجھے رزق عطا فرما اس کے بعد آپ نے انگھوٹھے کو نکال کر باقی چار انگلیوں کو بند کر کے فرمایا: یہ چیزیں دنیا اور آخرت دونوں کے لئے جامع ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15877]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2697
الحكم: إسناده صحيح، م: 2697
حدیث نمبر: 15878 مسند احمد
(حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لِلْقَوْمِ:" مَنْ وَحَّدَ اللَّهَ، وَكَفَرَ بِمَا يُعْبَدُ مِنْ دُونِهِ، حَرُمَ مَالُهُ وَدَمُهُ، وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طارق سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی قوم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے اور دیگر معبودان باطلہ کا انکار کرتا ہے اس کی جان مال محفوظ اور قابل احترام ہو جاتے ہیں اور اس کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15878]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 23
الحكم: إسناده صحيح، م: 23
حدیث نمبر: 15879 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَبُو مَالِكٍ ، لِأَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِكٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي : يَا أَبَتِ، إِنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ، وَعَلِيٍّ هَاهُنَا بِالْكُوفَةِ قَرِيبًا مِنْ خَمْسِ سِنِينَ، أَكَانُوا يَقْنُتُونَ؟ قَالَ: أَيْ بُنَيَّ، مُحْدَثٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سیدنا طارق سے پوچھا کہ اباجان آپ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے سیدنا ابوبکر کے پیچھے اور عمروعثمان اور یہاں کوفہ میں تقریبا پانچ سال تک سیدنا علی کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے کیا یہ حضرات قنوت پڑھتے تھے انہوں نے فرمایا: بیٹا یہ نو ایجاد چیز ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15879]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 15880 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طارق سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے خواب میں میری زیارت کی اس نے مجھ ہی کو دیکھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15880]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خلف بن خليفة مختلط، ولم يعلم سماع حسين بن محمد منه، أكان قبل الاختلاط أم بعده
الحكم: حديث صحيح، خلف بن خليفة مختلط، ولم يعلم سماع حسين بن محمد منه، أكان قبل الاختلاط أم بعده
حدیث نمبر: 15881 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، أَبِي طَارِقُ بْنُ أَشْيَمَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي طَارِقُ بْنُ أَشْيَمَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ مَنْ أَسْلَمَ , يَقُولُ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَارْزُقْنِي" وَهُوَ يَقُولُ:" هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ خَيْرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا طارق سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جب کوئی شخص آ کر اسلام قبول کرتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے یہ دعا سکھاتے تھے کہ اے اللہ مجھے معاف فرما مجھ پر رحم فرما مجھے ہدایت عطا فرما اور مجھے رزق عطا فرما اس کے بعد آپ فرماتے یہ چیزیں دنیا اور آخرت دونوں کے لئے جامع ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15881]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2697
الحكم: إسناده صحيح، م: 2697
حدیث نمبر: 15882 مسند احمد
بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الْبَصْرِيُّ الرَّاسِبِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، أَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى أَبُو بِشْرٍ الْبَصْرِيُّ الرَّاسِبِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: كَانَ" خِضَابُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَرْسَ , وَالزَّعْفَرَانَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومالک کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد صاحب سے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں ہم درس اور زعفران سے چیزوں کو رنگتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15882]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح