بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَبِي لُبَابَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 15748 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، أَبُو لُبَابَةَ ، زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يُسْقِطَانِ الْحَبَلَ، وَيَطْمِسَانِ الْبَصَرَ". قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَرَآنِي أَبُو لُبَابَةَ أَوْ زَيْدُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَنَا أُطَارِدُ حَيَّةً لِأَقْتُلَهَا، فَنَهَانِي، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَهَى بَعْدَ ذَلِكَ عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ. قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَهِيَ الْعَوَامِرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر سانپ کو خصوصا دھاری دار سانپ کو اور دم بریدہ سانپ کو ماردیا کر و کیونکہ یہ دونوں اسقاط حمل اور سلب بصارت کا ذریعہ بن جاتے ہیں اس لئے میں جو بھی سانپ دیکھتا تھا اسے قتل کر دیتا تھا ایک دن سیدنا ابولبابہ یازید بن خطاب نے مجھے دیکھا کہ میں ایک سانپ کو قتل کرنے کے لئے اسے دھتکار رہا ہوں اور میں نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15748]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3298، م: 2233
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3298، م: 2233
حدیث نمبر: 15749 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ:" اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ، وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ، فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِعَانِ الْبَصَرَ، وَيَسْتَسْقِطَانِ الْحَبَلَ". قَالَ: فَكُنْتُ لَا أَرَى حَيَّةً إِلَّا قَتَلْتُهَا، حتى قَالَ لِي أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ : أَلَا تَفْتَحُ بَيْنِي وَبَيْنَكَ خَوْخَةٌ، فَقُلْتُ: بَلَى , قَالَ: فَقُمْتُ أَنَا وَهُوَ فَفَتَحْنَاهَا، فَخَرَجَتْ حَيَّةٌ، فَعَدَوْتُ عَلَيْهَا لِأَقْتُلَهَا، فَقَالَ لِي: مَهْلًا، فَقُلْتُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَ بِقَتْلِهِنَّ، قَالَ: إِنَّهُ قَدْ نَهَى عَنْ قَتْلِ ذَوَاتِ الْبُيُوتِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر سانپ کو خصوصا دھاری دار سانپ کو اور دم بریدہ سانپ کو ماردیا کر و کیونکہ یہ دونوں اسقاط حمل اور سلب بصارت کا ذریعہ بن جاتے ہیں اس لئے میں جو بھی سانپ دیکھتا تھا اسے قتل کر دیتا تھا ایک دن سیدنا ابولبابہ یازید بن خطاب نے مجھے دیکھا کہ میں ایک سانپ کو قتل کرنے کے لئے اسے دھتکار رہا ہوں اور میں نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا ہے تو انہوں نے فرمایا کہ بعد ازاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو قتل کرنے سے منع فرما دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15749]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 3297، م: 22330 (في سنده محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، لكنه توبع)
الحكم: حديث صحيح، خ: 3297، م: 22330 (في سنده محمد بن إسحاق مدلس وقد عنعن، لكنه توبع)
حدیث نمبر: 15750 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، الْحُسَيْنَ بْنَ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ ، أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ أَخْبَرَ، أَنَّ أَبَا لُبَابَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَمَّا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَهْجُرَ دَارَ قَوْمِي، وَأُسَاكِنَكَ، وَإِنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يُجْزِئُ عَنْكَ الثُّلُثُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حسین بن سائب کہتے ہیں کہ جب اللہ نے سیدنا ابولبابہ کی توبہ قبول کر لی تو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ! میری توبہ کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ میں اپنی قوم کا گھر چھوڑ کر آپ کے پڑوس میں آ کر بس جاؤں اور اپنا سارامال اللہ اور اس کے رسول کے لئے وقف کر دوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری طرف سے ایک تہائی بھی کافی ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15750]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، الحسين بن السائب بن أبى لبابة مجهول، وفي سنده اضطراب
الحكم: إسناده ضعيف، الحسين بن السائب بن أبى لبابة مجهول، وفي سنده اضطراب
حدیث نمبر: 15751 مسند احمد
مُحَمَّدٌ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ رَبُّه ، نَافِعٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبُو لُبَابَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: عَنْ عَبْدِ رَبُّه ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ بِقَتْلِ الْحَيَّاتِ كُلِّهِنَّ، فَاسْتَأْذَنَهُ أَبُو لُبَابَةَ أَنْ يَدْخُلَ مِنْ خَوْخَةٍ لَهُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَرَآهُمْ يَقْتُلُونَ حَيَّةً، فَقَالَ لَهُمْ أَبُو لُبَابَةَ : أَمَا بَلَغَكُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ" نَهَى عَنْ قَتْلِ أُولَاتِ الْبُيُوتِ وَالدُّورِ، وَأَمَرَ بِقَتْلِ ذِي الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر پہلے تو ہر قسم کے سانپوں کو مارنے کا حکم دیتے تھے حتی کہ ایک دن سیدنا ابولبابہ نے ان کی کھڑکی سے مسجد میں داخل ہو نے کی اجازت چاہی تو دیکھا کہ وہ لوگ ایک سانپ کو مار رہے ہیں سیدنا ابولبابہ نے ان سے یہ حدیث سنائی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے اور دھاری دار اور دم بریدہ سانپ کو مارنے کا حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15751]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3298، م: 2233
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3298، م: 2233
حدیث نمبر: 15752 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، أَبُو لُبَابَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ فَتَحَ بَابًا، فَخَرَجَتْ مِنْهُ حَيَّةٌ، فَأَمَرَ بِقَتْلِهَا، فَقَالَ لَهُ أَبُو لُبَابَةَ : لَا تَفْعَلْ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ" نَهَى عَنْ قَتْلِ الْحَيَّاتِ الَّتِي تَكُونُ فِي الْبُيُوتِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر نے ایک دروازہ کھولا اس میں سے سانپ نکل آیا انہوں نے اسے مارنے کا حکم دیا سیدنا ابولبابہ نے فرمایا کہ ایسا نہ کر یں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15752]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3298، م: 2233
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3298، م: 2233