عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ لَيْلًا، فَتَعَجَّلَ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَإِذَا فِي بَيْتِهِ مِصْبَاحٌ، وَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ شَيْءٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ، فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ عَنِّي، فُلَانَةُ تُمَشِّطُنِي، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ،" فَنَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن رواحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت وہ سفر سے واپس آئے اور اپنی بیوی کی طرف روانہ ہو گئے گھر پہنچے تو وہاں چراغ جل رہا تھا اور ان کی بیوی کے پاس کوئی تھا انہوں نے اپنی تلوار اٹھالی یہ دیکھ کر ان کی بیوی کہنے لگی کہ رکو یہ تو فلاں عورت ہے جو میرا بناؤ سنگھار کر رہی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو واقعہ کی اطلاع دی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کو اچانک بلا اطلاع کسی شخص کو اپنے گھر واپس آنے سے منع کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15736]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبوسلمة لم يسمع من عبدالله بن رواحة
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبوسلمة لم يسمع من عبدالله بن رواحة