بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 15736 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ ، أَنَّهُ قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ لَيْلًا، فَتَعَجَّلَ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَإِذَا فِي بَيْتِهِ مِصْبَاحٌ، وَإِذَا مَعَ امْرَأَتِهِ شَيْءٌ، فَأَخَذَ السَّيْفَ، فَقَالَتْ امْرَأَتُهُ: إِلَيْكَ إِلَيْكَ عَنِّي، فُلَانَةُ تُمَشِّطُنِي، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ،" فَنَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن رواحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت وہ سفر سے واپس آئے اور اپنی بیوی کی طرف روانہ ہو گئے گھر پہنچے تو وہاں چراغ جل رہا تھا اور ان کی بیوی کے پاس کوئی تھا انہوں نے اپنی تلوار اٹھالی یہ دیکھ کر ان کی بیوی کہنے لگی کہ رکو یہ تو فلاں عورت ہے جو میرا بناؤ سنگھار کر رہی ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو واقعہ کی اطلاع دی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رات کو اچانک بلا اطلاع کسی شخص کو اپنے گھر واپس آنے سے منع کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15736]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبوسلمة لم يسمع من عبدالله بن رواحة
الحكم: مرفوعه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبوسلمة لم يسمع من عبدالله بن رواحة
حدیث نمبر: 15737 مسند احمد
يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سِنَانَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، ابْنَ رَوَاحَةَ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ سِنَانَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ , يَقُولُ قَائِمًا فِي قَصَصِهِ: إِنَّ أَخًا لَكُمْ كَانَ لَا يَقُولُ: الرَّفَثَ يَعْنِي ابْنَ رَوَاحَةَ ، قَالَ: وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ اللَّيْلِ سَاطِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْكَافِرِينَ الْمَضَاجِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سنان بن ابی سنان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کھڑے ہو کر وعظ کہنے کے دوران یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تمہارا بھائی یعنی ابن رواحہ بےہو دہ اشعار نہیں کہتا یہ شعر اسی نے کہے ہیں کہ ہمارے درمیان اللہ کے رسول موجود ہیں جو اللہ کی کتاب ہمیں پڑھ کر سناتے ہیں جبکہ رات کی تاریکی سے چمکدار صبح جدا ہو جائے وہ رات اس طرح گزارتے ہیں کہ ان کا پہلو بستر سے دور رہتا ہے جبکہ کفار اپنے بستروں پر بوجھ پڑھ ہوتے ہیں انہوں نے گمراہی کے بعد ہمیں ہدایت کا راستہ دکھایا اور اب ہمارے دلوں کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ جو کہتے ہیں ہو کر رہے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15737]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح