بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 15703 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَبَا شُعْبَةَ ، سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا شُعْبَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، أَنَّ رَجُلًا لَطَمَ جَارِيَةً لِآلِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدٌ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ إِخْوَتِي، وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدٌ، فَلَطَمَهُ أَحَدُنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنْ نُعْتِقَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سوید بن مقرن کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مارا سیدنا سوید نے اس سے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ ماردیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کر دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15703]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1658، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى شعبة
الحكم: حديث صحيح، م: 1658، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى شعبة
حدیث نمبر: 15704 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي حَمْزَةَ ، هلالا ، سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ هلالا رَجُلًا مِنْ بَنِي مَازِنٍ يُحَدِّثُ , عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ , قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَبِيذٍ فِي جَرٍّ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ،" فَنَهَانِي عَنْهُ، فَأَخَذْتُ الْجَرَّةَ فَكَسَرْتُهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک مٹکے میں نبیذ لے کر آیا اور اس کے متعلق حکم دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اس سے منع فرما دیا، چنانچہ میں نے وہ مٹکا پکڑا اور توڑ ڈالا۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15704]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة حال أبى حمزة
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة حال أبى حمزة
حدیث نمبر: 15705 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، سُفْيَانُ ، سَلَمَةَ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ، وَأَبِي
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَلَمَةَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ , قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا، ثُمَّ جِئْتُ وَأَبِي فِي الظُّهْرِ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِي، فَقَالَ: امتثل مِنْهُ , فَعَفَا، ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُ , قَالَ: كُنَّا وَلَدَ مُقَرِّنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَةً لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَعْتِقُوهَا" , فَقَالُوا: لَيْسَ لَنَا خَادِمٌ غَيْرُهَا، قَالَ:"، فَإِذَا اسْتَغْنَوْا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سوید بن مقرن کے حوالے سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے آل سوید کی ایک باندی کو تھپڑ مارا سیدنا سوید نے اس سے فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ چہرے پر مارنا حرام ہے ہم لوگ سات بھائی تھے ہمارے پاس صرف ایک خادم تھا ہم میں سے کسی نے ایک مرتبہ اسے تھپڑ ماردیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ اسے آزاد کر دیں۔ بھائیوں نے عرض کیا: کہ ہمارے پاس تو اس کے علاوہ کوئی اور خادم نہیں ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پھر اس سے خدمت لیتے رہواور جب اس سے بےنیاز ہو جائیں تو اس کا راستہ چھوڑ دیں۔ [مسند احمد/مسنَد المَكِّیِّینَ/حدیث: 15705]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1658
الحكم: إسناده صحيح، م: 1658